پاکستان اور International Monetary Fund کے درمیان جاری ورچوئل مذاکرات کے دوران مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے پاکستان کی معیشت پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لینے کے لیے خصوصی معاشی سیشن منعقد کیا گیا۔
ایران کا حیفا آئل ریفائنری پر ڈرون حملہ، خطے میں کشیدگی بڑھ گئی
ذرائع کے مطابق Ministry of Finance Pakistan کے حکام نے آئی ایم ایف کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث پاکستان کی ٹیکس آمدن متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ حکام کا کہنا تھا کہ علاقائی صورتحال کے باعث معاشی سرگرمیوں میں ممکنہ کمی آ سکتی ہے جس کے نتیجے میں ٹیکس وصولیوں کے مقررہ ہدف کے حصول میں مشکلات پیش آنے کا امکان ہے۔
مذاکرات کے دوران حکومت کی جانب سے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کے معاملے پر بھی آئی ایم ایف کو قائل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ آئندہ مالیاتی پالیسیوں میں اس طبقے کو ممکنہ سہولت فراہم کی جا سکے۔
حکام نے آئی ایم ایف کو بتایا کہ مختلف معاشی دباؤ کے باوجود حکومت ترقی کے ہدف کے قریب پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان کی معاشی شرح نمو رواں مالی سال میں 4.2 فیصد کے بجائے تقریباً 4 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
اسی طرح بریفنگ کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث افراطِ زر میں اضافے کا خدشہ موجود ہے۔ اندازہ ظاہر کیا گیا ہے کہ مہنگائی کی شرح 7.5 فیصد کے مقررہ ہدف سے بڑھ کر تقریباً 7.8 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔
دوسری جانب حکام نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی کہ موجودہ علاقائی صورتحال کے باوجود بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔ اس ضمن میں State Bank of Pakistan اور دیگر متعلقہ ادارے مالیاتی استحکام برقرار رکھنے کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔
