امریکا کے سابق صدر Donald Trump نے کہا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر Ali Khamenei کے بعد ملک کے اگلے رہنما کے انتخاب کے معاملے میں امریکا کو بھی کردار ادا کرنا چاہیے، بصورت دیگر ایران کی نئی قیادت کے بارے میں کیے جانے والے فیصلے مؤثر ثابت نہیں ہوں گے۔
پیٹرولیم قیمتیں ہفتہ وار کرنے کی تجویز
امریکی ویب سائٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں Donald Trump نے دعویٰ کیا کہ اگر ایران امریکا کی شمولیت کے بغیر اپنے نئے رہنما کے انتخاب کی کوشش کرتا ہے تو وہ وقت ضائع کرنے کے مترادف ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران میں مستقبل کی قیادت کا تعین خطے کی سیاسی صورتحال اور عالمی استحکام کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے، اس لیے اس عمل میں بین الاقوامی عوامل کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کے سپریم لیڈر کے بیٹے Mojtaba Khamenei کو ممکنہ طور پر اگلا رہنما تصور کیا جا رہا ہے، تاہم وہ اس فیصلے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان کے مطابق ایران کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو ملک میں استحکام، ہم آہنگی اور امن کو فروغ دے سکے۔
انہوں نے کہا کہ Mojtaba Khamenei ایک کمزور شخصیت ہیں اور اگر انہیں ایران کی قیادت سونپی گئی تو اس کے اثرات نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے پر پڑ سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ ایران میں ایسی قیادت دیکھنا چاہتے ہیں جو عالمی برادری کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرے۔
اپنے بیان میں ٹرمپ نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح Venezuela کے سیاسی معاملات میں امریکا نے کردار ادا کیا تھا، اسی طرح ایران کی مستقبل کی قیادت کے تعین میں بھی امریکا کو شامل ہونا چاہیے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران میں ایسا نیا رہنما سامنے آتا ہے جو سابقہ قیادت کی پالیسیوں کو جاری رکھتا ہے تو آئندہ پانچ برسوں کے اندر امریکا اور ایران کے درمیان ایک بار پھر شدید تنازع پیدا ہونے کا خدشہ موجود رہے گا۔
