پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں، سینیٹ اور قومی اسمبلی، نے نیب ترمیمی بل 2026 کثرتِ رائے سے منظور کر لیا، تاہم بل کی منظوری کے دوران اپوزیشن کی جانب سے ایوان میں شدید احتجاج اور نعرے بازی دیکھنے میں آئی۔ منظور شدہ بل اب دستخط کے لیے صدرِ مملکت کو ارسال کیا جائے گا، جس کے بعد یہ باقاعدہ قانون کی شکل اختیار کر لے گا۔
بیوگان اور یتیموں کیلئے رحمت کارڈ پروگرام کی منظوری
قانون کے متن کے مطابق وفاقی حکومت کو چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) کی مدتِ ملازمت میں مزید تین سال تک توسیع دینے کا اختیار حاصل ہوگا۔ اس کے علاوہ احتساب عدالتوں کے دائرہ اختیار میں اپیلوں کو بھی شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ احتسابی مقدمات کے فیصلوں کے خلاف قانونی راستہ واضح کیا جا سکے۔
بل میں یہ شق بھی شامل کی گئی ہے کہ نیب مقدمات میں مالی حد کو ہر سال مہنگائی کی شرح کے مطابق ایڈجسٹ کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے جاری کردہ انفلیشن انڈیکس کو بنیاد بنایا جائے گا تاکہ احتسابی معاملات میں مالی حدود کو موجودہ معاشی حالات کے مطابق برقرار رکھا جا سکے۔
سینیٹ کے اجلاس کے دوران سینیٹر Abdul Qadir نجی بل پیش کرنے کے لیے کھڑے ہوئے اور کہا کہ ان کے پاس ایک اور بل بھی موجود ہے جسے فوری طور پر ایوان میں پیش کر کے منظور کیا جائے۔ تاہم جیسے ہی نیب ترمیمی بل منظوری کے لیے پیش کیا گیا تو اپوزیشن نے شدید احتجاج شروع کر دیا۔
اس موقع پر سینیٹر Kamran Murtaza نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ بل نہ تو ایوان کے ایجنڈے میں شامل ہے اور نہ ہی اسے ضمنی ایجنڈے کے طور پر پیش کیا گیا ہے، لہٰذا اسے فوری طور پر منظور کرنا پارلیمانی قواعد کے خلاف ہے۔
بعد ازاں چیئرمین سینیٹ Yousaf Raza Gillani نے بل پیش کرنے کی تحریک ایوان میں پیش کی جسے اکثریت نے منظور کر لیا اور یوں بل کی منظوری کا عمل مکمل ہوا۔
بل کے مطابق احتساب عدالت اور ہائی کورٹ کو ضمانت دینے یا ملزم کو رہا کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔ عدالتیں کوڈ آف کرمنل پروسیجر کی متعلقہ دفعات 439، 496، 497 اور 498 کے تحت ملزمان کو ضمانت یا بریت دینے کے فیصلے کر سکیں گی۔
مزید برآں بل میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ کسی بھی فیصلے کے خلاف ملزم یا چیئرمین نیب کی ہدایت پر پراسیکیوٹر جنرل 30 دن کے اندر وفاقی آئینی عدالت میں اپیل دائر کر سکے گا۔
بل پر بحث کے دوران سینیٹر Ali Zafar نے کہا کہ یہ قانون سازی حکومت یا اس کے اتحادیوں کے فائدے کے لیے نہیں بلکہ مستقبل میں خود ان کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قانون دراصل ایک مخصوص سیاسی شخصیت، یعنی Imran Khan کے خلاف بنایا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایوان میں قائدِ ایوان Ishaq Dar نے اپوزیشن کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی پی ٹی آئی حکومت نے جلد بازی میں درجنوں قوانین منظور کیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک پرائیویٹ ممبر بل ہے اور اگر اپوزیشن کو اس پر اعتراض ہے تو وہ پرائیویٹ ممبر ڈے پر اپنی ترامیم پیش کر سکتی ہے۔
اجلاس کے دوران اپوزیشن کی جانب سے یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ چیئرمین نیب کو توسیع دینے کی تجویز ایسے وقت میں لائی جا رہی ہے جب موجودہ چیئرمین کی مدتِ ملازمت ختم ہونے کے قریب ہے، جبکہ ماضی میں چیئرمین نیب کی تقرری میں اپوزیشن کی مشاورت شامل ہوتی تھی۔
