پنجاب حکومت نے معاشرتی فلاح و بہبود کے ایک بڑے اقدام کے طور پر بیوہ خواتین اور یتیم بچوں کی مالی معاونت کے لیے رحمت کارڈ پروگرام متعارف کرانے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اہم منصوبے کی منظوری وزیراعلیٰ پنجاب Maryam Nawaz کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں دی گئی، جس میں متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے منصوبے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔
Thursday, 5th March 2026
اجلاس کے دوران بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ رحمت کارڈ پروگرام کے تحت مستحق خاندانوں کو براہ راست مالی امداد فراہم کی جائے گی تاکہ بیوہ خواتین اور یتیم بچوں کو معاشی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ حکام کے مطابق اس اسکیم کے تحت بیوہ خواتین کو ایک لاکھ روپے تک مالی امداد فراہم کی جائے گی جبکہ یتیم بچوں کو فی کس 25 ہزار روپے دیے جائیں گے۔
حکام نے مزید بتایا کہ رحمت کارڈ پروگرام کے پہلے مرحلے میں 50 ہزار سے زائد مستحق اور بے سہارا خاندانوں کو اس سہولت سے مستفید کیا جائے گا، جس سے کمزور اور ضرورت مند طبقات کو معاشی مشکلات سے نکلنے میں مدد ملے گی۔ اس اقدام کو حکومت پنجاب کی جانب سے سماجی تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ رحمت کارڈ کے حصول کے لیے درخواست کا عمل آسان اور شفاف رکھا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے موبائل ایپلی کیشن، ویب پورٹل، کال سینٹر اور زکوٰۃ دفاتر کے ذریعے درخواستیں جمع کرانے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ حکام کے مطابق اس فلاحی منصوبے کا باقاعدہ آغاز عید کے فوراً بعد متوقع ہے۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب Maryam Nawaz نے کہا کہ حکومت بیوہ خواتین اور یتیم بچوں کی کفالت کو اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے اور ان کی فلاح کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیوہ خواتین کو خیرات نہیں بلکہ ان کا باعزت حق دیا جائے گا اور ریاست ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب کے وسائل پر ہر شہری کا برابر حق ہے اور حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے گی کہ مستحق افراد تک ان کا حق شفاف انداز میں پہنچایا جائے۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اس منصوبے پر تیزی سے عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ ضرورت مند خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔
