کراچی: گلستانِ جوہر بلاک 2، پلاٹ نمبر Sa-3 پر جاری غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی ایک بار پھر متنازع رخ اختیار کر گئی۔ ذرائع کے مطابق Sindh Building Control Authority (ایس بی سی اے) نے قانونی تقاضے مکمل کرتے ہوئے متعلقہ تھانے میں پیشگی انٹری کروائی تھی اور پولیس کی جانب سے بھی باقاعدہ اجازت فراہم کی گئی تھی۔
کراچی: گلبائی فلائی اوور کے قریب کسٹمز کی بڑی کارروائی، 800 اسمگل شدہ موبائل فونز برآمد
اطلاعات کے مطابق جب ایس بی سی اے کی انہدامی ٹیم غیر قانونی تعمیر کے خلاف کارروائی کے لیے موقع پر پہنچی تو وہاں موجود ایس بی سی اے کے ایس ایچ او نے اچانک کارروائی روکنے اور ٹیم کو فوری طور پر واپس جانے کی ہدایت جاری کر دی۔ بتایا جاتا ہے کہ انہدامی عمل شروع ہونے سے قبل ہی تمام ٹیموں کو واپسی کا حکم دے دیا گیا۔
مزید برآں، ایس بی سی اے ایس ایچ او کی جانب سے نہ صرف کارروائی رکوا دی گئی بلکہ متعلقہ افسران اور عملے کو تھانے میں پیش ہونے کی ہدایت بھی جاری کی گئی، جس پر افسران نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے غیر قانونی تعمیرات میں ملوث عناصر کو فائدہ پہنچنے کا خدشہ ہے۔ شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر سرکاری اداروں کی قانونی کارروائیوں کو اسی طرح روکا جاتا رہا تو شہر میں غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ مزید تیز ہو سکتا ہے، جو شہری نظم و ضبط اور انفراسٹرکچر کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔
