مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات پاکستان تک پہنچنے لگے ہیں، جہاں ملک میں ایندھن کے ممکنہ بحران کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ پیٹرول پمپ مالکان نے دعویٰ کیا ہے کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے پیٹرول اور دیگر پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی محدود کردی گئی ہے جس کے باعث صورتحال تشویشناک ہوتی جارہی ہے۔
افغان پالیسی پر حکومت کا سخت مؤقف
پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے وزیراعظم کو ارسال کیے گئے خط میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے پیٹرول پمپس کے لیے سپلائی کوٹہ مقرر کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں طلب اور رسد میں واضح فرق پیدا ہوگیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق متعدد کمپنیوں نے پہلے سے جاری سپلائی آرڈرز منسوخ کرنا شروع کر دیے ہیں جبکہ بعض کیسز میں آرڈرز میں بار بار ردوبدل کیا جارہا ہے، جس سے کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ کوٹہ سسٹم نافذ کیے جانے کے باعث عوامی ضروریات پوری نہیں ہو پا رہیں اور کئی پیٹرول پمپس پر ایندھن کے ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ مالکان کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں مختلف شہروں میں پیٹرول پمپس خشک ہونے کا خدشہ ہے، جس سے ٹرانسپورٹ، صنعت اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوسکتی ہے۔
ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لے اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو مصنوعی قلت پیدا کرنے سے روکے۔ خط میں یہ بھی اپیل کی گئی ہے کہ غیر یقینی صورتحال اور خوف و ہراس پھیلانے سے گریز کیا جائے اور مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے۔
معاشی ماہرین کے مطابق اگر عالمی سطح پر تیل کی رسد متاثر ہوتی ہے تو اس کے اثرات درآمدی بل، روپے کی قدر اور مہنگائی پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔ ایسی صورت میں حکومت کو نہ صرف ذخائر کی دستیابی یقینی بنانا ہوگی بلکہ عوام کو بروقت اور شفاف معلومات فراہم کرنا بھی ناگزیر ہوگا تاکہ افواہوں اور ذخیرہ اندوزی کی حوصلہ شکنی کی جاسکے۔
حکومتی حلقوں کی جانب سے تاحال اس حوالے سے باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ صورتحال کا جائزہ لیا جارہا ہے اور متعلقہ اداروں سے رپورٹ طلب کرلی گئی ہے۔ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو ملک میں ایندھن کی سپلائی چین کو برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
