کراچی: کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن (KW&SC) میں پانی چوری کی روک تھام اور ریونیو ریکوری کو مؤثر بنانے کے لیے اینٹی تھیفٹ سیل ختم کرنے اور اس کی جگہ ریونیو پروٹیکشن اینڈ انفورسمنٹ سیل (RPEC) قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
نو تعینات اکاؤنٹنٹ جنرل سندھ میانداد راہوجو کی چیف سیکریٹری سندھ سے ملاقات
نو قائم کردہ RPEC پانی چوری، غیر قانونی کنکشنز کے خاتمے اور ریکوری کے عمل کی مرکزی سطح پر نگرانی کرے گا۔ سیل کی سربراہی چیف ایگزیکٹو آفیسر کریں گے جبکہ چیف آپریٹنگ آفیسر، چیف کمرشل آفیسر اور چیف سیکیورٹی آفیسر اس کا حصہ ہوں گے۔
چیف کمرشل آفیسر کو RPEC کا سیکریٹری مقرر کیا گیا ہے جبکہ سینئر ڈائریکٹر ریونیو اینڈ ریسورس جنریشن (RRG) بھی سیل میں شامل ہوں گے۔ اضلاع اور ٹاؤن کی سطح پر خصوصی اسکواڈز تشکیل دینے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
فیلڈ سطح پر اینٹی تھیفٹ اور کنکشن منقطع کرنے کی کارروائیوں کی ذمہ داری ٹاؤن ایگزیکٹو انجینئرز اور ڈپٹی ڈائریکٹر ریونیو پر عائد ہوگی، جبکہ نگرانی چیف انجینئرز آپریشنز اور سینئر ڈائریکٹر آر آر جی کریں گے۔
پانی چوری کے خلاف کارروائیوں میں سیکیورٹی، لیگل اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا تعاون بھی حاصل کیا جائے گا۔ اینٹی تھیفٹ اور سب سوائل امور کو ریونیو اینڈ ریسورس جنریشن ڈیپارٹمنٹ کے ماتحت کر دیا گیا ہے، جبکہ سینئر ڈائریکٹر آر آر جی کو اضافی آپریشنل چارج بھی دے دیا گیا ہے۔
اس حوالے سے دفتر حکم نامہ مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعد جاری کر دیا گیا ہے جو فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔

