گل پلازہ سانحہ: ایس بی سی اے کا وضاحتی بیان، ریکارڈ مکمل اور محفوظ ہونے کا دعویٰ

کراچی: سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے گل پلازہ سانحہ کے حوالے سے بعض میڈیا رپورٹس میں شائع شدہ خبروں کو بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔ ایس بی سی اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ گل پلازہ کا ریکارڈ ادارے کے پاس موجود ہے اور تمام قانونی و تکنیکی دستاویزات مکمل طور پر محفوظ ہیں۔

بوٹ بیسن پولیس کی کامیاب کارروائی، بدنامِ زمانہ منشیات فروش کے نیٹ ورک پر چھاپہ، ایک ملزم گرفتار

ترجمان نے بتایا کہ گل پلازہ کی عمارت 1979ء میں تعمیر کی گئی تھی، اور 1998ء میں اس کے ریوائزڈ پلان کی منظوری دی گئی۔ بعد ازاں 2001 کے ریگولرائزیشن آرڈیننس کے تحت 2003 میں منصوبہ باقاعدہ قواعد و ضوابط کے مطابق ریگولرائز کیا گیا۔

ایس بی سی اے کے مطابق 2005 میں جاری ریوائزڈ نو اوبجیکشن سرٹیفکیٹ کے مطابق بیسمینٹ میں 175، گراؤنڈ فلور پر 355، فرسٹ فلور پر 188، سیکنڈ فلور پر 193 اور تیسری منزل پر 191 دکانوں کی منظوری دی گئی تھی، جس کے تحت مجموعی دکانوں کی تعداد 1102 بنتی ہے۔ عمارت میں بیسمینٹ سے گراؤنڈ فلور جانے کے لیے دو سیڑھیاں، گراؤنڈ سے پہلی منزل کے لیے چھ، دوسری سے تیسری منزل کے لیے پانچ سیڑھیاں اور گراؤنڈ فلور پر اخراج کے لیے 16 راستے موجود ہیں۔

ایس بی سی اے نے واضح کیا کہ ادارہ کسی بھی قسم کے ریکارڈ غائب ہونے یا حقائق چھپانے کے تاثر کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے اور گل پلازہ سانحہ کے ذمہ داروں کے تعین کے لیے شفاف اور حقائق پر مبنی تحقیقات کی یقین دہانی کرائی ہے۔

63 / 100 SEO Score

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!