معروف کاروباری شخصیت عارف حبیب نے پی آئی اے کی نجکاری اور بحالی کے بعد اب بلیو اکانومی کے شعبے میں سرمایہ کاری پر توجہ مرکوز کر لی ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق عارف حبیب نے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (PNSC) کی انتظامیہ کے ساتھ ایک اہم ملاقات کی، جس میں سمندری وسائل کے بہتر استعمال اور سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق سرمایہ کاری کا بنیادی مقصد پاکستان کے سمندری وسائل کو مؤثر انداز میں بروئے کار لا کر ملکی معیشت کی ترقی میں کردار ادا کرنا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے سمندری وسائل بڑی حد تک غیر استعمال شدہ ہیں اور ملکی جی ڈی پی میں ان کا حصہ محض 0.5 فیصد ہے۔
پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن نے 2030 تک اپنے بیڑے میں جہازوں کی تعداد 10 سے بڑھا کر 54 کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جس کے ذریعے سالانہ 6 ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
اس موقع پر عارف حبیب نے پی آئی اے کی بحالی کا روڈ میپ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ قومی ایئرلائن کے تمام 34 طیارے ستمبر 2026 تک فعال کر دیے جائیں گے، جبکہ اس وقت صرف 17 طیارے آپریشنل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 135 ارب روپے کی خریداری قیمت میں سے 125 ارب روپے براہِ راست پی آئی اے میں نئے انجنوں کی خریداری اور توسیع پر خرچ کیے جائیں گے۔
عارف حبیب کے مطابق پی آئی اے کی توسیع کے لیے مزید ماہرین کو شامل کیا جائے گا اور تمام بھرتیاں مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری ملک کے وسیع تر اقتصادی اصلاحاتی ایجنڈے میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے، جس سے سرکاری خسارہ کم کرنے اور معیشت میں بہتری آئے گی۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ معیشت کی پائیدار بہتری کے لیے بلیو اکانومی کے شعبے میں اصلاحات اور سرمایہ کاری ناگزیر ہیں۔ ماہرین کے مطابق بلیو اکانومی میں جدت اور مؤثر استعمال سے نہ صرف قومی آمدن میں اضافہ ہوگا بلکہ روزگار کے نمایاں مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
