وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر نے اپنے وفد کے ہمراہ ملاقات کی، جس میں صوبے میں چھوٹی اور درمیانی صنعتوں (SMEs) کی ترقی کے لیے باہمی تعاون اور مشترکہ اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
کھارادر میں پولیس مقابلہ، لیاری گینگ وار سے تعلق رکھنے والا بھتہ خور ہلاک
ملاقات میں صوبائی وزیر صنعت و تجارت جام اکرام اللہ دھاریجو، معاون خصوصی برائے سرمایہ کاری سید قاسم نوید، چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ، سیکریٹری ٹو وزیراعلیٰ عبدالرحیم شیخ اور دیگر حکام شریک تھے۔ وفاقی وفد میں وفاقی سیکریٹری صنعت و پیداوار سیف انجم، ڈائریکٹر جنرل فریدون اکرم، سی ای او سمیڈا نادیہ جہانگیر، سمیڈا سندھ کے سربراہ مکیش کمار، ذیشان اور دیگر شامل تھے۔
ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق اجلاس میں چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کو درپیش چیلنجز، ترقیاتی منصوبوں اور سرمایہ کاری کے مواقع پر گفتگو کی گئی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے وفد کی سی ایم ہاؤس آمد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ چھوٹی صنعتوں کی ترقی کے لیے وفاق اور صوبوں کا مل کر کام کرنا ناگزیر ہے۔
ہارون اختر نے کہا کہ وزیراعظم ملک بھر میں چھوٹی صنعتوں کی ترقی کے لیے خصوصی اقدامات کر رہے ہیں اور وفاق و صوبوں کے باہمی تعاون سے ہی معیشت کو مستحکم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے سندھ حکومت کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے لیے کیے گئے اقدامات کو سراہا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ سندھ انٹرپرائز ڈویلپمنٹ فنڈ (SEDF) کے ذریعے صوبے میں 30.8 ارب روپے کی نجی سرمایہ کاری متحرک کی گئی ہے، جبکہ چھوٹی صنعتوں کے فروغ سے 3,880 سے زائد براہ راست ملازمتیں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اور حبیب بینک کے تعاون سے SMEs کو 10 ملین روپے تک کے غیر ضمانتی قرضے فراہم کیے جائیں گے، جن پر چھوٹے تاجروں کے لیے صرف 5 فیصد فکسڈ مارک اپ ہوگا جبکہ بقیہ سود سندھ حکومت برداشت کرے گی۔
وزیراعلیٰ کے مطابق 9,500 سے زائد خواتین کو مائیکرو لونز فراہم کیے جا چکے ہیں اور 25 خواتین انٹرپرینیورز کی براہ راست معاونت کی گئی ہے۔ پیپلز انفارمیشن ٹیکنالوجی پروگرام کے تحت 48 ہزار سے زائد نوجوانوں کو مفت آئی ٹی تربیت دی جا رہی ہے۔
اجلاس میں کنری (سندھ) میں ریڈ چلی ڈی ہائیڈریشن یونٹ کی بحالی کے لیے وفاق اور سندھ حکومت کے باہمی تعاون پر بھی اتفاق کیا گیا۔ اس کے علاوہ SMEs کے سولر منصوبوں پر ڈیوٹی اور ٹیکس میں چھوٹ دے کر توانائی کے اخراجات کم کرنے پر مشترکہ طور پر کام کرنے کا فیصلہ ہوا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے سمیڈا کو سندھ میں اپنے منصوبوں کا دائرہ کار بڑھانے اور ڈیٹا اپ ڈیٹ کرنے پر زور دیا، جبکہ اسٹیٹ بینک کی 6 فیصد شرح سود پر مشتمل ری فنانس اسکیمیں دوبارہ بحال کرنے کی تجویز پر بھی بات چیت کی گئی۔
صوبائی وزیر جام اکرام اللہ دھاریجو نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے کیماڑی میں 300 ایکڑ اراضی پر سمال انڈسٹریز کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔ آخر میں وزیراعلیٰ سندھ اور وفاقی معاون خصوصی نے چھوٹی صنعتوں کی ترقی کے لیے ایک کوآرڈی نیشن کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا، جسے ایک ہفتے کے اندر نوٹیفائی کیا جائے گا۔ کمیٹی میں وفاقی وزارت صنعت و پیداوار، سمیڈا اور سندھ حکومت کے متعلقہ محکموں کے نمائندے شامل ہوں گے۔
