کابل پولیس اکیڈمی کی گریجویشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے افغان طالبان کے سینئر رہنما اور وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے کہا ہے کہ مسائل کا حل تصادم میں نہیں بلکہ مذاکرات میں ہے، اور افغان حکومت اس حوالے سے سنجیدہ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان طالبان دوحہ معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں پر قائم ہیں اور اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔
پنجگور میں سکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن بھارتی پراکسی کے 4 دہشت گرد ہلاک
افغان طالبان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق سراج الدین حقانی نے عالمی برادری کو یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ افغانستان خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
تاہم زمینی حقائق کے مطابق ماضی میں ایسی یقین دہانیوں کے باوجود پاکستان میں سرحد پار سے دراندازی اور حملوں کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں، جس پر اسلام آباد کی جانب سے مسلسل تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔
سراج الدین حقانی نے اپنے خطاب میں پاکستان کا نام نہیں لیا، لیکن ان کے بیان کو پاکستان کے اس دیرینہ مؤقف کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے جس کے تحت کابل سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔ پاکستان کی جانب سے تاحال اس بیان پر کوئی باضابطہ سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب قومی وطن پارٹی کے چیئرمین آفتاب خان شیرپاؤ نے سراج الدین حقانی کے بیان کو اہم قرار دیتے ہوئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا کہ افغان وزیر داخلہ کا یہ کہنا کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور دوحہ معاہدے کے تحت افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان بنیادی طور پر انہی سے بیعت رکھتی ہے اور طویل عرصے سے افغانستان کے اُن علاقوں میں سرگرم رہی ہے جو حقانی نیٹ ورک کے زیر اثر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات حالیہ برسوں میں سرحدی جھڑپوں اور سیکیورٹی خدشات کے باعث کشیدہ رہے ہیں۔ اکتوبر 2025 سے دونوں ممالک کے درمیان سرحدی گزرگاہیں بند ہیں، جس کے نتیجے میں سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ تجارت اور عوامی روابط بھی شدید متاثر ہوئے ہیں۔
ترکیہ اور متحدہ عرب امارات نے دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کرانے کی کوششیں کیں، تاہم یہ سفارتی کوششیں تاحال کسی ٹھوس نتیجے تک نہیں پہنچ سکیں۔ پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ افغانستان ٹی ٹی پی کے حوالے سے تحریری ضمانت دینے سے گریزاں ہے، جبکہ اسلام آباد کے مطابق اسی تنظیم کے جنگجو غیرمحفوظ سرحد کے ذریعے پاکستان میں داخل ہو کر دہشت گردانہ حملے کرتے رہے ہیں۔
