ای چالان جاری کرنے والے نظام کی مبینہ تکنیکی اور انتظامی خامیوں کے باعث کراچی کے ایک شہری کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جہاں گھر میں کھڑی گاڑی کے مالک کو صرف 25 روز کے اندر دو ای چالان موصول ہو گئے۔
یو اے ای کے صدر کی پاکستان آمد، تاریخی استقبال فضائی سلامی اور 21 توپوں کی گونج
کراچی میں ای چالان سسٹم کو نافذ ہوئے تقریباً تین ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے، تاہم آئے روز سامنے آنے والے واقعات اس نظام کی خامیوں کو اجاگر کر رہے ہیں۔ تازہ واقعے میں ایک شہری کو سیٹ بیلٹ نہ پہننے کے الزام میں 10،10 ہزار روپے کے دو ای چالان جاری کیے گئے۔
حیران کن بات یہ ہے کہ متاثرہ شہری کی گاڑی طویل عرصے سے گھر پر کھڑی ہے اور وہ سڑک پر آئی ہی نہیں۔ شہری کی گاڑی 1987 ماڈل ہے، جبکہ ای چالان کے ساتھ موصول ہونے والی سی سی ٹی وی تصاویر میں دکھائی دینے والی گاڑی بالکل نئی ماڈل کی ہے۔
تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جس گاڑی پر چالان کیے گئے، اس پر جعلی نمبر پلیٹ لگی ہوئی تھی، جو دو مختلف صوبوں میں استعمال ہوتی رہی۔ جرائم پیشہ عناصر نے نئی گاڑی پر 1987 ماڈل کی گاڑی کی نمبر پلیٹ نصب کر رکھی تھی۔
رپورٹ کے مطابق مذکورہ گاڑی جعلی نمبر پلیٹ کے ساتھ بلوچستان اور کراچی کے درمیان سفر کرتی رہی۔ پہلا ای چالان 23 نومبر کو پنجاب چورنگی کے قریب جبکہ دوسرا 18 دسمبر کو حب ٹول پلازہ پر جاری کیا گیا۔ دونوں مواقع پر سی سی ٹی وی فوٹیج میں گاڑی چلانے والا شخص ایک ہی نظر آیا۔
پولیس حکام نے متاثرہ شہری کو ہدایت کی ہے کہ وہ تحریری درخواست جمع کرائے، تاکہ معاملے کی مکمل تحقیقات کی جا سکیں اور اصل ملزمان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
یہ واقعہ ای چالان نظام کی شفافیت اور درستگی پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے، جس پر فوری اصلاحات کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔
