کراچی: بالی ووڈ کی تازہ پاکستان مخالف فلم ‘دھُرندھر’ پر سرحد کے دونوں جانب متضاد ردِعمل سامنے آئے ہیں۔ اگرچہ کچھ افراد نے فلم کی تکنیکی مہارت کو سراہا، مگر اکثریت نے اس کے پیچھے چھپی بھارتی سازش کو بھانپ لیا، جس کا مقصد ہمسایہ ملک کو منفی انداز میں پیش کرنا تھا۔
اداکار عمران عباس نے اس معاملے پر انسٹاگرام اور فیس بک پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے فلم سازوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ فلمیں ‘نفرت، دشمنی اور تقسیم کے اوزار’ بن گئی ہیں، اور فن کا اصل مقصد دل جیتنا ہے، نہ کہ ذہنوں کو زہر آلود کرنا۔
عمران عباس نے مزید کہا کہ سینما کو لوگوں کے درمیان پل بنانے کے لیے استعمال ہونا چاہیے، نہ کہ تعصبات کی ترویج کے لیے۔ فن کے لبادے میں لپٹی نفرت وقتی منافع تو کما سکتی ہے، لیکن پیچھے گہرے زخم چھوڑ جاتی ہے۔
اداکار نے پاکستانیوں کی جانب سے فلم کی تعریف پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر پاکستان بھارت کے خلاف ایسی کوئی فلم بناتا تو پورا بھارتی معاشرہ اس کے خلاف کھڑا ہو جاتا۔ انہوں نے اسے ‘اوپن مائنڈنیس نہیں بلکہ بےغیرتی اور وقار کے منافی رویہ’ قرار دیا۔
عمران عباس نے کہا کہ فنکاروں پر معاشرے کے لیے ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور انہیں اپنے کام کے ذریعے دنیا کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
