چوہدری اسلم کی بیوہ کا بالی وڈ فلم ’دھریندر‘ پر شدید ردِعمل، کردار کشی پر قانونی کارروائی کا عندیہ

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ پولیس کے شہید افسر چوہدری اسلم کی بیوہ، نورین اسلم نے بالی وڈ فلم دھریندر کے ٹریلر میں اپنے شوہر کی کردار کشی پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کرلیا ہے۔

کراچی میں ٹریفک حادثات کا بحران شدت اختیار کرگیا، رواں سال 806 شہری جان کی بازی ہار گئے

جیو ڈیجیٹل سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ٹریلر میں ’’شیطان اور جن سے پیدا ہونے والے بچے‘‘ جیسا ڈائیلاگ نہ صرف چوہدری اسلم کی تضحیک ہے بلکہ اُن کی والدہ کی کردار کشی بھی ہے۔ انہوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ ’’ہم مسلمان ہیں، ایسی باتیں ہمارے معاشرتی اور مذہبی عقائد کے منافی ہیں۔ چوہدری اسلم کی والدہ پاکیزہ، پردہ دار خاتون تھیں۔ اگر فلم میں شوہر کے خلاف کوئی پروپیگنڈا کیا گیا تو قانونی حق استعمال کروں گی۔‘‘

نورین اسلم نے کہا کہ اداکار قصوروار نہیں ہوتے، اصل ذمہ داری رائٹرز پر عائد ہوتی ہے۔ ’’بھارتی مصنفین ہمیشہ پاکستان کو منفی انداز میں پیش کرتے ہیں۔ اس فلم میں بھی چوہدری اسلم اور پاکستانی اداروں کی مبہم اور غلط عکاسی کی گئی ہے۔‘‘

رحمان ڈکیت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’’ٹی ٹی پی بین الاقوامی سطح پر دہشتگرد تنظیم ہے، رحمان ڈکیت کو فلم میں حد سے زیادہ بڑا دکھایا گیا ہے۔ چوہدری اسلم نے اس سے کہیں بڑے دہشتگردوں کا خاتمہ کیا تھا۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ فلم دیکھنے کے بعد ہی واضح ہوگا کہ کیا واقعی ٹی ٹی پی کا ترجمان سنجے دت کو کال کرتا دکھایا گیا ہے۔ ’’چوہدری نے کیا کہا تھا، وہ آج بھی دنیا جانتی ہے۔ اُن کی بہادری کسی ثبوت کی محتاج نہیں۔‘‘

ایک اور انٹرویو میں نورین اسلم نے شادی کے حوالے سے بتایا کہ ’’اگر زندگی کروڑ بار بھی ملے تو پھر بھی چوہدری اسلم جیسا شوہر مانگوں گی۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ چوہدری اسلم نے اپنے کیریئر کے آغاز میں کہا تھا کہ ’’مجھ پر فلمیں بنیں گی، کیونکہ میں نے ملک سے بے وفائی نہیں کی، شہادت ہی میری آخری منزل ہے۔‘‘

60 / 100 SEO Score

One thought on “چوہدری اسلم کی بیوہ کا بالی وڈ فلم ’دھریندر‘ پر شدید ردِعمل، کردار کشی پر قانونی کارروائی کا عندیہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!