پاکستان پیپلز پارٹی نے بھارتی جاسوس تھرلر فلم "دھورندھر” میں سابق وزیر اعظم شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی تصاویر کے مبینہ غلط استعمال اور پارٹی کو دہشت گردوں کی ہمدرد کے طور پر پیش کرنے پر سخت ردِعمل دیا ہے۔
چیمپیئنز لیگ میں دھوم لیورپول کی انٹر پر سنسنی خیز فتح چیلسی کو اٹلانٹا کے ہاتھوں شکست بارسلونا اور ٹوٹنہم کی کامیابیاں
پیپلز پارٹی کی ترجمان اور سندھ ٹاسک فورس کی رکن سمیتا افضل سید نے ایک بیان میں کہا کہ نئی ریلیز ہونے والی فلم میں بے نظیر بھٹو کی تصاویر کو غیر قانونی طور پر استعمال کیا گیا ہے، جو نہ صرف ان کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ سیاسی وراثت کی توہین ہے بلکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی پالیسیوں کو بھی بدنیتی سے مسخ کرنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ انتہا پسندی کے خلاف فرنٹ لائن کا کردار ادا کیا ہے اور پارٹی مسلسل دہشت گردی کے خلاف سب سے مضبوط دیوار رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ:
"پی پی پی دہشت گردی کا ہدف بھی رہی اور اس کے خلاف سب سے مضبوط مزاحمت بھی۔ بے نظیر بھٹو کی وراثت کو مسخ کرنے کی کوشش قابلِ مذمت ہے۔”
ترجمان نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کی جانب سے ایک سابق وزیر اعظم اور عالمی سطح پر معزز جمہوری رہنما کو بدنام کرنے کی کوششوں کا فوری نوٹس لے۔
آدتیہ دھر کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم "دھورندھر” میں رنویر سنگھ اور اکشے کھنہ نے مرکزی کردار ادا کیے ہیں۔ فلم کی کہانی 2001 کے بھارتی پارلیمنٹ حملے کے گرد گھومتی ہے۔
اس فلم کو اس سے پہلے بھی اس بنا پر تنقید کا نشانہ بنایا جاچکا ہے کہ اس میں پاکستان کے سیاسی معاملات اور داخلی تنازعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔
