کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ سرکاری ملازمتوں میں عمر کی حد سے متعلق عدلیہ کے فیصلے کے بعد سندھ حکومت اس فیصلے پر عمل درآمد کی پابند ہے۔ تاہم جن امیدواروں نے عدالت کے فیصلے سے قبل آئی بی اے سکھر کے ذریعے ملازمتوں کے لیے ٹیسٹ دیے تھے اور کامیاب ہوئے تھے، اُن پر عمر کی نئی پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا۔
نادرا افسران گرفتار غیر ملکیوں کو رقوم کے عوض شناختی کارڈ جاری کرنے کا انکشاف
سندھ اسمبلی میں اپوزیشن رکن شبیر قریشی کی پرائیویٹ قرارداد پر اظہار خیال کرتے ہوئے سعید غنی کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ نے ماضی میں سرکاری ملازمتوں میں 15 سال کی عمر کی رعایت دی تھی، لیکن عدالتی فیصلے کے بعد اس سہولت میں تبدیلی آئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2022 اور 2023 میں آئی بی اے سکھر کے تحت گریڈ 5 سے 15 تک کے امتحانات کرائے گئے تھے، جن کے نتائج تین سال تک قابلِ استعمال تھے، مگر عدالت کے حکم نے یہ عمل روک دیا۔
وزیر محنت نے واضح کیا کہ سندھ کابینہ نے تفصیلی غور کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ عدالتی فیصلے سے قبل ٹیسٹ پاس کرنے والوں کے لیے اُس وقت کی عمر کی رعایت برقرار رکھی جائے گی، جبکہ مستقبل میں ہونے والی تمام نئی بھرتیوں اور ٹیسٹوں پر عدالتی حکم کے مطابق عمر کی حد لازمی لاگو ہوگی۔
انہوں نے ایوان کو مشورہ دیا کہ عدالت کے حکم کی موجودگی میں اس معاملے پر مزید دباؤ نہ ڈالا جائے، کیونکہ حکومت کی جانب سے ممکنہ حد تک ریلیف پہلے ہی فراہم کر دیا گیا ہے۔ بعد ازاں رکن اسمبلی شبیر قریشی نے اپنی قرارداد واپس لے لی۔
