وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ افغان رجیم کی کمزوریاں پاکستان میں بڑھتی ہوئی دراندازی کی بنیادی وجہ ہیں جبکہ خیبرپختونخوا حکومت ڈرگ اسمگلنگ، غیر قانونی کان کنی اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں
کی روک تھام میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے، جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے۔
پاک بحریہ کی جانب سے سری لنکا میں سمندری طوفان ’دتواہ‘ کے متاثرین کے لیے فوری امداد
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے انکشاف کیا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے چار ہزار سے زائد مقدمات ایسے ہیں جن میں اب تک فردِ جرم عائد نہیں ہوسکی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 12 برس میں صوبے میں مؤثر پراسیکیوشن سسٹم قائم نہیں کیا گیا، حالانکہ پراسیکیوشن کا پورا نظام صوبائی حکومت کے ماتحت ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور ان کی جماعت نے صوبے میں ہونے والے دھماکوں کی مذمت تک نہیں کی۔ ان کے مطابق آج بھی غیر قانونی ٹھیکوں کے تحت پہاڑ کاٹے جا رہے ہیں جبکہ صوبہ خیبرپختونخوا واحد علاقہ ہے جہاں ہزاروں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں آزادی سے چل رہی ہیں۔
عطا اللہ تارڑ نے 9 مئی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ دراصل فوج کو کمزور کرنے کی سازش تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی قریبی خواتین رشتہ دار بھی کور کمانڈر ہاؤس حملے میں ملوث تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 9 مئی کے منصوبہ ساز اور سہولت کار جلد قانون کے کٹہرے میں ہوں گے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کے تمام مذموم منصوبے ناکام ہو رہے ہیں اور ریاست پاکستان اُن عناصر کو ضرور روکے گی جو اداروں کے خلاف زہر اگل رہے ہیں یا ملک کی سلامتی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
