ڈپٹی وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحٰق ڈار نے کہا ہے کہ مصر کے وزیر اعظم و وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی کا دورۂ پاکستان دونوں برادر ممالک کے دیرینہ اور مضبوط تعلقات کا عملی ثبوت ہے۔ یہ بات انہوں نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کے دوران کہی، جہاں ان کے ہمراہ مصری وزیر اعظم بدر عبدالعاطی موجود تھے جو دو روزہ سرکاری دورے پر گزشتہ رات اسلام آباد پہنچے۔ دورے میں غزہ اور سوڈان کے تنازعات، ایرانی جوہری پروگرام، اور اقتصادی تعاون میں اضافے سمیت اہم امور پر بات چیت کی جارہی ہے۔
افغان رجیم کی کمزوری دراندازی میں اضافہ خیبرپختونخوا حکومت مکمل ناکام عطا اللہ تارڑ
مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسحٰق ڈار کا کہنا تھا کہ آج ہونے والی ملاقاتیں پاکستان–مصر تعلقات کی مضبوطی اور سیاسی، اقتصادی، دفاعی، ثقافتی اور عوامی شعبوں میں تعاون کو بڑھانے کے عزم کی عکاسی کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے تعاون کو مزید منظم فریم ورک کے تحت آگے بڑھانے اور شراکت داری کے نئے مواقع تلاش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسحٰق ڈار نے بتایا کہ انہوں نے مصری وزیراعظم کے ساتھ باہمی تجارت میں اضافے پر خصوصی گفتگو کی اور دونوں ممالک کے درمیان 30 کروڑ ڈالر کی موجودہ تجارتی سطح کو ’ناکافی‘ قرار دیتے ہوئے پاکستان کی جانب سے 250 نمایاں کاروباری اداروں کی فہرست مصر کے ساتھ شیئر کرنے کا اعلان کیا، تاکہ دوطرفہ کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ممکن ہو سکے۔
ڈپٹی وزیراعظم کے مطابق ملاقات میں علاقائی حالات، خصوصاً غزہ کی تازہ صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مصر کے انسانیت دوست کردار، ثالثی کی کوششوں اور جنگ بندی کے لیے جاری سفارتی اقدامات کو سراہتا ہے، اور مصر کو مسلم دنیا کا اہم شراکت دار تصور کرتا ہے۔
دونوں رہنماؤں نے کشمیر، افغانستان اور کثیرالجہتی فورمز پر جاری تعاون کا بھی جائزہ لیا۔
پاکستان ہمارا دوسرا گھر ہے، تعلقات کو تزویراتی سطح پر لے جانا چاہتے ہیں: بدر عبدالعاطی
مصری وزیر اعظم بدر عبدالعاطی نے پریس کانفرنس کے دوران پاکستان کو اپنا ’دوسرا گھر‘ قرار دیتے ہوئے دہشت گردی کے حالیہ واقعات پر تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مصر دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی میں کھڑا ہے۔
بدر عبدالعاطی نے کہا کہ دونوں ممالک کو درپیش مشترکہ چیلنجز سیاسی، اقتصادی اور سیکیورٹی شعبوں میں مزید تعاون کا تقاضا کرتے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مصر پاکستان کے ساتھ تعلقات کو تزویراتی سطح تک لے جانا چاہتا ہے اور 2010 سے غیر فعال مشترکہ وزارتی کمیٹی کو دوبارہ فعال کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اب وقت ہے کہ جوائنٹ کمیٹی کا اجلاس دوبارہ بلایا جائے اور سیاست، معیشت، سرمایہ کاری، تجارت، سیکیورٹی، مذہب اور ثقافت سمیت تمام شعبوں کے لیے جامع روڈ میپ تیار کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صدر عبدالفتاح السیسی نے انہیں اسلام آباد کے ساتھ دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی خصوصی ہدایات دی ہیں، اور ’ہماری شراکت داری کی کوئی حد نہیں‘۔
اسحٰق ڈار نے کہا کہ بدر عبدالعاطی کا دورہ دونوں ملکوں کے درمیان معاشی، دفاعی اور ثقافتی تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔
دفترِ خارجہ کے مطابق دونوں رہنما وزارتِ خارجہ میں اہم مشاورت بھی کر رہے ہیں۔
