کیڈٹ کالج وانا حملے میں افغان دہشتگرد ملوث، منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی: سیکورٹی ذرائع

وانا: (اسٹاف رپورٹر) — کیڈٹ کالج وانا حملے سے متعلق ہوش ربا انکشافات سامنے آئے ہیں، جن کے مطابق حملہ کرنے والے تمام دہشتگرد افغان شہری تھے۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی اور اس کا حتمی حکم خارجی نور ولی محسود نے جاری کیا۔

چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف کا بنگلہ دیش کا دورہ مکمل، دوطرفہ بحری تعاون کے فروغ پر اتفاق

ذرائع کے مطابق دہشتگرد پورے آپریشن کے دوران افغانستان سے موصول ہونے والی ہدایات پر عمل کرتے رہے۔ حملے کی منصوبہ بندی ایک دہشتگرد زاہد نامی خارجی نے کی، جبکہ نور ولی محسود کے حکم پر حملے کی ذمہ داری ’’جیش الہند‘‘ کے نام سے قبول کی گئی۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ نور ولی محسود نے اپنی تنظیم فتنہ الخوارج (TTP) کو اس کارروائی سے الگ ظاہر کرنے کے لیے ’’جیش الہند‘‘ کا نام استعمال کیا۔ حملے کے دوران بنائی گئی ویڈیو میں بھی خارجی دہشتگرد بار بار ’’جیش الہند‘‘ کا نام لیتے رہے تاکہ اصل شناخت چھپائی جا سکے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے فتنہ الخوارج پر مسلسل دباؤ ہے کہ وہ اپنی اصل شناخت کے بجائے مختلف نام استعمال کریں، تاکہ ان پر پاکستان اور دیگر دوست ممالک کے دباؤ سے بچا جا سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے کے لیے تمام اسلحہ و سازوسامان افغانستان سے فراہم کیا گیا، جس میں امریکی ساختہ ہتھیار شامل تھے۔ انکشاف ہوا ہے کہ حملے کا مقصد پاکستان میں سیکیورٹی خدشات کو بڑھانا تھا، جو کہ بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کی ہدایت پر کیا گیا۔

سیکیورٹی اداروں کے مطابق حملے میں مارے گئے افغان دہشتگردوں کی شناخت کے بعد تمام شکوک و شبہات دور ہوگئے ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان اور عزمِ استحکام کے تحت ملک بھر میں آپریشنز آخری دہشتگرد کے خاتمے تک جاری رہیں گے۔

واضح رہے کہ دو روز قبل دہشتگردوں نے کیڈٹ کالج وانا کے مرکزی دروازے سے بارود سے بھری گاڑی ٹکرا دی تھی، تاہم سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تمام دہشتگردوں کو ہلاک کردیا تھا۔

62 / 100 SEO Score

One thought on “کیڈٹ کالج وانا حملے میں افغان دہشتگرد ملوث، منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی: سیکورٹی ذرائع

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!