گلگت اسکاوٹس اور مقامی جانبازوں نے ڈوگرا راج کے خلاف اعلانِ جنگ کرتے ہوئے مہاراجہ کے کنٹرول کو ختم کیا، جس کے بعد گلگت کی فضاؤں میں پہلی بار پاکستانی پرچم لہرایا گیا۔
کراچی میں 5 روز کے دوران 22 ہزار 869 ای چالان سیٹ بیلٹ اور ہیلمٹ نہ پہننے والے سب سے آگے
14 اگست 1948 کو تقریباً ایک سال کی جدوجہد کے بعد بلتستان کو بھی بھارتی تسلط سے آزاد کرا لیا گیا۔ گلگت بلتستان میں ڈوگرا راج کے خلاف عوام کی اس کامیابی کو آج بھی ایک عظیم تاریخی معرکہ قرار دیا جاتا ہے۔
ماہرین تاریخ کے مطابق، گلگت بلتستان کی آزادی محض عسکری نہیں بلکہ عوامی اتحاد اور قومی عزم کی نمایاں مثال تھی۔ مقامی مجاہدین نے محدود وسائل کے باوجود خطے کو آزاد کرایا۔
گلگت بلتستان آج اپنے منفرد جغرافیائی محلِ وقوع کی بدولت نہ صرف دفاعی بلکہ سیاحتی، معاشی اور ثقافتی اہمیت کے لحاظ سے بھی ملک کا قیمتی اثاثہ ہے۔
