امریکی سینیٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 100 سے زائد ممالک پر عائد عالمی تجارتی ٹیرف کو مسترد کر دیا، قرارداد 51 کے مقابلے میں 47 ووٹوں سے منظور کی گئی۔
پاکستان نے بھارتی جاسوس پکڑ لیا گرفتار اعجاز ملاح کے سنسنی خیز انکشافات
امریکی میڈیا کے مطابق، حیران کن طور پر چار ری پبلکن سینیٹرز — سوزن کولنز (مین)، مچ مکونل اور رینڈ پال (کینٹکی)، اور لیزا مرکاؤسکی (الاسکا) — نے ڈیموکریٹس کے ساتھ ووٹ دیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ فیصلہ صدر ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں کے خلاف ری پبلکنز کی ایک نایاب بغاوت ہے۔
یہ رواں ہفتے کے دوران تیسری مرتبہ ہے کہ ری پبلکن سینیٹرز نے ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر ٹیرف کے خاتمے کی قرارداد کی حمایت کی۔ اس سے قبل برازیل اور کینیڈا پر عائد ٹیرف کے خاتمے کی قراردادیں بھی منظور ہو چکی ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے دوسرے دورِ صدارت میں “ریسپر وکل ٹیرفس (Reciprocal Tariffs)” کے نام سے وسیع تجارتی محصولات نافذ کیے تھے، جنہیں اب سینیٹ نے براہِ راست عدم اعتماد کے طور پر مسترد کیا ہے۔
ڈیموکریٹ سینیٹر ٹم کین نے کہا کہ یہ اقدام اگرچہ علامتی ہے، مگر صدر کے اختیارات کے ناجائز استعمال کے خلاف ایک واضح پیغام ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ایوانِ نمائندگان میں اس قرارداد کے منظور ہونے کے امکانات انتہائی کم ہیں، کیونکہ ری پبلکنز نے سال کے آغاز میں ایک خصوصی پارلیمانی قاعدہ منظور کیا تھا جو ٹیرف سے متعلق قراردادوں کو فلور ووٹ سے روکتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، سینیٹ کی یہ پیش رفت امریکی تجارتی پالیسی میں بڑی تبدیلی کا اشارہ ہے، جس کے عالمی معیشت پر بھی نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
