ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ نے کہا ہے کہ ای-چالان کے نفاذ کے بعد کراچی کی سڑکوں پر واضح نظم و ضبط آیا ہے — زیادہ تر شہری ہیلمٹ اور سیٹ بیلٹ استعمال کر رہے ہیں اور سگنل توڑنے کے واقعات میں کمی دکھائی دیتی ہے۔ تشکر نیوز کے مارننگ شو میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سسٹم نیا ہے اور وقت کے ساتھ بہتر ہوگا، مگر ابتدائی کارکردگی اطمینان بخش ہے۔
امریکا اور بھارت کے درمیان 10 سالہ دفاعی فریم ورک معاہدہ خطے میں طاقت کے نئے توازن کی بنیاد
پیر محمد شاہ کے اہم نکات:
خود کار نظام کے تحت اب تک تقریباً 10 ہزار چالان ہوئے جن میں صرف 2 یا 3 خامیاں رپورٹ ہوئیں۔
چالان پرنٹ ہونے سے قبل نگرانی پر مامور ٹریفک اہلکار اس بات کی توثیق کرتے ہیں کہ کیمرے نے نمبر پلیٹ درست پڑھا ہے۔
شہریوں کو ہدایت کہ نمبر پلیٹس صاف رکھیں؛ جب تک سرکاری نمبر پلیٹ نہیں ملتیں متبادل مطلوبہ سائز کی پلیٹ استعمال کی جا سکتی ہے۔
گاڑی فروخت کرنے والے افراد ایکسائز یا نادرا کے مراکز جا کر بایومیٹرک کروائیں اور نئے مالک کی شناختی کاپی دے کر اپنا نام نکلوائیں، ورنہ چالان نئی رجسٹریشن والے کے مطابق جائے گا۔
شہر میں 11 سہولت مراکز قائم کیے گئے ہیں اور ہر ضلع میں ایک سہولت سنٹر موجود ہے جہاں شہری رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔
جعلی نمبر پلیٹ جرم ہے اور یہ معاملہ سیف سٹی اتھارٹی دیکھتی ہے — اس پر فوری ایف آئی آر درج ہوتی ہے۔
لاہور کے موازنہ میں جرمانوں کا فرق قابلِ بحث ہے؛ مگر کراچی میں رعایتی اسکیم: 15 دن کے اندر چالان جمع کروائیں تو 50٪ رعایت ممکن ہے۔ ڈی آئی جی نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ 2500 روپے کے رعایتی چالان کے بجائے 1,200 روپے کا ہیلمٹ خرید لیں۔
ایک گاڑی اگر دن بھر میں متعدد بار خلاف ورزی کرے تو صرف ایک چالان شائع ہوگا اور بقیہ مقامات پر تنبیہ جاری کی جائے گی — یعنی بار بار ایک ہی دن میں متعدد چالان نہیں ہوں گے۔
ای-چالان سسٹم شفاف ہے؛ کسی قسم کی کرپشن یا چالان کے ریکارڈ میں چھیڑ چھاڑ ممکن نہیں۔
حکومت ممکنہ طور پر عادی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے سماجی خدمت جیسی پالیسیاں غور میں لائے گی تاکہ جرمانے بعض حالات میں معاف/متبادل کیے جا سکیں۔
بسوں اور بڑی گاڑیوں کو بھی ٹریکرز کے ذریعے چالان کیے جا رہے ہیں؛ رفتار و دیگر خلاف ورزیوں پر خودکار نوٹس جائیں گے۔
چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان سے مل کر آؤٹ آف پرووینس گاڑیوں کے اندراج کا حل جلد متعارف کرایا جائے گا۔
سرکاری اداروں کی گاڑیوں کے خلاف جرمانے ادارے کے سربراہ کو جاری ہوں گے؛ اگر جرمانہ ادا نہ ہوا تو 21 دن بعد گاڑی بند ہونے کی کارروائی ہوگی۔
چنگچی (مسافر بیگن) ڈرائیورز کو متنبہ کیا گیا — عنقریب ان پر بھی چالان جاری ہوں گے، اور نشست کے ساتھ مسافر سوار کرنے والے چنگچی ڈرائیوروں کو 15,000 روپے کا جرمانہ ہو سکتا ہے۔
پیر محمد شاہ نے واضح کیا کہ مقصد صرف جرمانے لگانا نہیں بلکہ ٹریفک کلچر میں تبدیلی لانا ہے تاکہ عوام کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
