امریکا اور بھارت نے ایک 10 سالہ دفاعی فریم ورک معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جسے خطے میں استحکام اور دفاعی توازن کے لیے اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
مواچھ گوٹھ آتشزدگی: واٹر کارپوریشن کی فوری کارروائی، فائر بریگیڈ کو ڈھائی لاکھ گیلن پانی فراہم
خبر رساں اداروں رائٹرز اور اے ایف پی کے مطابق، امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اپنے ’ایکس‘ پوسٹ میں بتایا کہ یہ فریم ورک دونوں ممالک کے درمیان تعاون، معلومات کے تبادلے اور تکنیکی اشتراک میں اضافہ کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ:
"ہماری دفاعی شراکت داری پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔”
بھارتی اخبار ’ہندوستان ٹائمز‘ کے مطابق، یہ معاہدہ کوالالمپور میں ہونے والے آسیان ڈیفنس منسٹرز میٹنگ-پلس کے موقع پر طے پایا، جو ہفتہ سے شروع ہونے والی ہے۔
معاہدے کے بعد پیٹ ہیگسیتھ نے بھارتی وزیرِ دفاع راجناتھ سنگھ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا کی سب سے اہم امریکی-بھارتی شراکت داریوں میں سے ایک ہے، جو باہمی اعتماد، مشترکہ مفادات اور ایک محفوظ و خوشحال بحرالکاہل-بحیرہ ہند خطے کے عزم پر قائم ہے۔
امریکی وزیرِ دفاع کے مطابق، یہ معاہدہ مستقبل میں دونوں ممالک کی افواج کے لیے مزید گہرے اور بامعنی تعاون کی راہ ہموار کرے گا اور امریکا کے طویل المدتی سیکیورٹی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے موقع پر ہوئی ہے جب حال ہی میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے ملائیشیا میں بھارتی وزیرِ خارجہ سبرامنیم جے شنکر سے ملاقات کی تھی — جو روسی تیل کمپنیوں پر امریکی پابندیوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلا اعلیٰ سطحی رابطہ تھا۔
دوسری جانب، امریکا اور بھارت کے تعلقات اگست میں اُس وقت کشیدہ ہو گئے تھے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی درآمدات پر 50 فیصد تک محصولات بڑھا دیے تھے اور نئی دہلی پر روس سے سستا تیل خریدنے کا الزام لگایا تھا۔
امریکی انتظامیہ نے گزشتہ ماہ ایچ-ون بی ویزوں پر ایک لاکھ ڈالر اضافی فیس عائد کی تھی، جن میں بھارتی کارکنوں کی اکثریت شامل ہے۔ نئی دہلی نے اس اقدام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس پالیسی سے ہزاروں خاندان متاثر ہو سکتے ہیں۔
