کراچی (اسٹاف رپورٹر) — آئی جی سندھ غلام نبی میمن کی زیر صدارت سینٹرل پولیس آفس کراچی میں اہم اجلاس ہوا، جس میں قتل کے مقدمات میں مفرور اور اشتہاری ملزمان کی گرفتاریوں کے حوالے سے جاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ایڈیشنل آئی جیز، ڈی آئی جیز اور اے آئی جیز سمیت اعلیٰ افسران بالمشافہ اور بذریعہ وڈیو لنک شریک ہوئے۔
چیف سیکریٹری سندھ سے سندھ ایمپلائز الائنس وفد کی ملاقات، ملازمین کے مسائل پر پیش رفت
اجلاس کے شرکاء کو اے آئی جی آپریشنز نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پولیس کے مؤثر اور تیز ترین اقدامات کی بدولت رواں سال مجموعی طور پر قتل کے مقدمات میں مفرور ملزمان کی شرح میں 22 فیصد جبکہ اشتہاری ملزمان کی شرح میں 14 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ پولیس مقامی انٹیلی جنس اور ڈیجیٹل ذرائع کی مدد سے ملزمان کو قانون کی گرفت میں لا رہی ہے۔ عوامی مقامات، ہوٹلز، بس ٹرمینلز اور ریلوے اسٹیشنز پر تلاش ایپ، ہوٹل آئی اور ای وی ایس ایپلیکیشن کے ذریعے ملزمان کی نشاندہی اور گرفتاری میں مدد لی جارہی ہے۔
آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے ضلعی افسران کو ہدایت دی کہ قتل کے مقدمات میں مفرور اور اشتہاری ملزمان کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں متحرک کریں اور ان گرفتاریوں کو اپنی روزانہ ترجیحات کا حصہ بنائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہفتہ وار ایک دن ان اقدامات کا خود جائزہ لیا جائے اور دیگر صوبوں کے محکموں کے ساتھ روابط کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ مفرور ملزمان کی گرفتاری یقینی بنائی جا سکے۔
آئی جی سندھ نے اس بات پر زور دیا کہ اب تک کے نتائج گزشتہ سال کی نسبت بہتر ہیں، تاہم مزید غیر معمولی بہتری لانے کی ضرورت ہے، اور آئندہ اجلاس میں مزید مؤثر نتائج سامنے آنے چاہئیں۔
