انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے ہفتے کو 9 مئی کیس کی سماعت کے دوران استغاثہ کے تین گواہان کے بیانات قلمبند کیے اور بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی جانب سے ٹرائل روکنے کی درخواست خارج کر دی۔
ایشیا کپ فائنل پاکستان اور بھارت پہلی بار فیصلہ کن معرکے میں آمنے سامنے
سماعت کے دوران ڈی ایس پی اکبر عباس، انسپکٹر عصمت کمال اور انسپکٹر تہذیب الحسن نے عدالت میں شہادتیں دیں۔ گواہان نے گرفتار ملزمان سے برآمد ہونے والے ڈنڈے، جھنڈے، پولیس ہیلمٹ، لائٹر اور فوجی مجسمے کے ٹکڑے عدالت میں پیش کیے۔ انسپکٹر عصمت کمال نے چکری انٹرچینج پر پی ٹی آئی قیادت کی میٹنگ سے متعلق شواہد بھی ریکارڈ کرائے۔
اب تک مقدمے میں 44 گواہان کے بیانات قلمبند کیے جا چکے ہیں۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر مقدمے کے آخری تین گواہان، ڈی ایس پی مرزا جاوید، انسپکٹر ناظم شاہ اور انسپکٹر یعقوب شاہ کو طلب کر لیا۔ کیس کی مزید سماعت 30 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی۔
پس منظر کے مطابق، 9 مئی 2023 کو القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ سے گرفتاری کے بعد ملک گیر احتجاج ہوا تھا جس میں فوجی و سول تنصیبات کو نقصان پہنچایا گیا، جناح ہاؤس لاہور پر دھاوا بولا گیا اور راولپنڈی میں جی ایچ کیو کا گیٹ توڑا گیا۔ ہنگاموں کے دوران کم از کم 8 افراد ہلاک اور 290 زخمی ہوئے، جب کہ 1900 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔
