کراچی (اسٹاف رپورٹر) — سندھ پولیس کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات، تنظیم نو اور ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے اسپیشل برانچ سندھ کو مکمل طور پر پیپرلیس اور جدید خطوط پر استوار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پاکستان اور روس کی افواج کی مشترکہ مشق ‘دروزبہ-8’ اختتام پذیر، انسداد دہشتگردی میں مہارت کا مظاہرہ
اس سلسلے میں آئی جی سندھ غلام نبی میمن کی زیر صدارت سینٹرل پولیس آفس کراچی میں اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ، ڈی آئی جیز ہیڈکوارٹرز، اسٹبلشمنٹ، آئی ٹی، فائنانس، ایس ایس پیز اسپیشل برانچ اور اے آئی جیز نے شرکت کی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اسپیشل برانچ کے انٹیلیجنس گیدرنگ، فیڈنگ، سروے، ریکارڈ مینجمنٹ، آئی آر جنریشن اور تجزیہ سازی سمیت دیگر امور کو بتدریج ڈیجیٹلائزڈ کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ کی سربراہی میں 4 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو پیپرلیس نظام کے لیے حکمت عملی اور لائحہ عمل تیار کرے گی۔
اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ فی الوقت اسپیشل برانچ عوامی مفاد کی تین آن لائن سہولتیں فراہم کر رہی ہے جن میں پاسپورٹ اور اسلحہ لائسنس کی تصدیق شامل ہیں، تاہم نیشنل اسٹیٹس، پری ویزا، این جی اوز اور کمپنی ملازمین کی ویریفیکیشن کو بھی جلد آن لائن کیا جائے گا۔
آئی جی سندھ نے کہا کہ اسپیشل برانچ پولیسنگ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، دنیا بھر میں پولیس کے اداروں میں اس طرز کا یونٹ انٹیلیجنس اور انفارمیشن گیدرنگ کے لیے مختص ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دیگر شعبوں کے مقابلے میں اسپیشل برانچ کو باآسانی پیپرلیس اور ڈیجیٹلائزڈ کیا جاسکتا ہے۔
فیصلے کے مطابق، کمیٹی 30 روز کے اندر ڈیجیٹلائزیشن کے لیے درکار سافٹ ویئرز، ہارڈویئرز اور آلات کی نشاندہی کرے گی، جب کہ پہلے مرحلے میں روزمرہ امور کو پیپرلیس بنانے پر کام کیا جائے گا۔
ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ نے کہا کہ اصلاحات اور ڈیجیٹلائزیشن وقت کی ضرورت ہیں، اسپیشل برانچ کو جدید خطوط پر استوار کرنے سے اس کی کارکردگی مزید بہتر ہوگی اور یہ عمل عالمی معیار سے ہم آہنگ ہوگا۔
