وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ وقت کے تقاضوں کے مطابق معاشی ترجیحات مرتب کرنا ناگزیر ہیں، پاکستان میں بلاک چین اور ڈیجیٹل اثاثوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ وہ ہفتے کو اسلام آباد میں منعقدہ کانفرنس بلاک چین اینڈ ڈیجیٹل ایسٹس: ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن سے خطاب کر رہے تھے۔
پاکستان کے کامیاب فضائی آپریشن کے بعد امریکا کا نیا میزائل پروگرام ایک ارب ڈالر کی فنڈنگ کی درخواست
وزیر خزانہ نے کہا کہ ملک میں 20 سے 25 ملین افراد کسی نہ کسی شکل میں بلاک چین اور ڈیجیٹل اثاثوں سے منسلک ہیں جن میں بڑی تعداد نوجوانوں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے کرپٹو کونسل قائم کر دی ہے اور اب پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) کے آرڈیننس پر کام جاری ہے، جس کا پہلا اجلاس آئندہ پیر کو ہوگا۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان میں اضافی توانائی موجود ہے جسے کرپٹو مائننگ، اے آئی ڈیٹا سینٹرز اور دیگر ٹیکنالوجیکل ویلیو چینز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرپٹو کرنسی کے حوالے سے ابتدا میں تجرباتی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں گے، جبکہ بلاک چین سے متعلق قوانین جلد قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بڑی جدوجہد کے بعد ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے میں کامیابی حاصل کی ہے، اس لیے ریگولیٹری تناظر میں احتیاطی اقدامات ضروری ہیں تاکہ ملک دوبارہ ایسی صورتحال کا شکار نہ ہو۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نجی شعبے کے کردار کو معترف ہے اور وزیراعظم کے وژن کے مطابق سرمایہ کاروں اور تاجروں کو سہولیات کی فراہمی کے لیے ریگولیٹری فریم ورک میں بہتری لائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نجی شعبے، اکیڈمیا اور حکومت کو مل کر قومی معیشت کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہوگا تاکہ نوجوانوں کو زیادہ مواقع مل سکیں۔
