وفاقی حکومت نے کاروباری برادری کے دیرینہ مطالبے پر فنانس ایکٹ میں اہم ترمیم کر دی ہے۔ نگراں وزیر تجارت گوہر اعجاز نے اس پیش رفت کو تاجروں کی بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔
جنت مرزا کے حج کی شاہانہ جھلکیاں زیرِ بحث مداح نے انسٹاگرام پر سوال اٹھا دیا
گوہر اعجاز کے مطابق فنانس ایکٹ کے سیکشن 37-A میں ترمیم کے بعد اب کاروباری شخصیات کی گرفتاری صرف کمیٹی کی منظوری کے بعد ہی ممکن ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ترمیم فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور کاروباری برادری کے درمیان مشاورت سے کی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک بھر کے 18 چیمبرز آف کامرس نے اس معاملے کو آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے سامنے اٹھایا تھا، جس پر کاروباری برادری کی عزت اور تحفظ کو یقینی بنانے کے اقدامات کیے گئے۔
گوہر اعجاز نے اعلان کیا کہ اب ایف بی آر کی متعلقہ کمیٹی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI)، دیگر چیمبرز اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز بھی شامل ہوں گے۔ اس کمیٹی کی پیشگی منظوری کے بغیر کسی تاجر کے خلاف انکوائری یا گرفتاری ممکن نہیں ہوگی۔
کاروباری برادری نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے "اعتماد سازی کا اہم قدم” قرار دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس ترمیم سے نہ صرف کاروباری ماحول بہتر ہو گا بلکہ معاشی سرگرمیوں میں بھی بہتری متوقع ہے۔
