سندھ کے وزیر محنت شاہد تھہیم نے صوبے میں ہنرمند و نیم ہنر مند مزدوروں کے لیے نئی کم از کم اجرتوں کا اعلان کر دیا ہے۔ اس کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے، جس کا اطلاق یکم جولائی 2025 سے ہوگا۔
مالٹا اور فن لینڈ کا فلسطین کے حق میں دو ریاستی حل کی حمایت کا اعلان علاقائی امن پر زور
اعلان کے مطابق نیم ہنر مند افراد کی ماہانہ اجرت 41 ہزار 380 روپے، ہنرمند افراد کی 49 ہزار 628 روپے، اور اعلیٰ ہنر مند مزدوروں کی کم از کم اجرت 51 ہزار 745 روپے ماہانہ مقرر کی گئی ہے۔
وزیر محنت سندھ نے واضح کیا کہ نئی اجرتوں کا اطلاق تمام رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ صنعتی و تجارتی اداروں پر لازم ہوگا، جب کہ مرد و خواتین مزدوروں کو برابری کی بنیاد پر اجرت دی جائے گی۔
شاہد تھہیم نے کہا کہ اجرت میں اضافے کا مقصد بڑھتی ہوئی مہنگائی کے بوجھ کو کم کرنا ہے تاکہ محنت کش طبقہ باعزت اور بہتر زندگی گزار سکے۔
واضح رہے کہ ایک روز قبل ہی ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے حیدرآباد میں منعقدہ ایک پروگرام کے دوران حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ تنخواہ دار اور دیہاڑی دار طبقے کے لیے کم از کم اجرت کو بڑھا کر 75 ہزار روپے ماہانہ کیا جائے۔
ایچ آر سی پی کے رہنماؤں نے کہا تھا کہ موجودہ اجرت ایک 5 رکنی خاندان کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ پروگرام میں "زندہ رہنے کے لیے اجرت کا حق” کے عنوان سے ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی، جس میں محنت کشوں کے مسائل اور لیبر قوانین پر عملدرآمد کی کمی کو اجاگر کیا گیا۔
ایچ آر سی پی کی یہ سرگرمی مزدوروں کے حقوق کے لیے جاری ایک وسیع مہم کا حصہ ہے، جس میں مختلف سماجی کارکنان، ٹریڈ یونین نمائندوں اور محنت کشوں نے شرکت کی۔
