اسلام آباد: صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے یومِ شہدائے کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں 13 جولائی 1931 کے عظیم کشمیری شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان 22 جاں نثاروں کی قربانیوں نے کشمیریوں کے دلوں میں آزادی کی شمع روشن کی، جو آج بھی پوری آب و تاب سے جل رہی ہے۔
ایوانِ صدر سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت نے کہا کہ کشمیری عوام آج بھی اس جدوجہد کو اسی جوش و جذبے کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں، جو ان شہداء کی لازوال قربانیوں سے شروع ہوئی تھی۔
صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی بہادری، استقامت اور عظیم قربانیوں کو سلام پیش کرتا ہے، جو کئی دہائیوں سے بھارتی مظالم کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بھارت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کو ایک فوجی قید خانے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ "ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، سیاسی قید، آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوششیں اور مسلمانوں کی شناخت مٹانے کی منظم سازشیں جاری ہیں۔”
صدرِ مملکت نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارتی ریاستی دہشتگردی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لیں اور کشمیری عوام کو انصاف دلوانے کے لیے کردار ادا کریں۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کشمیری بھائیوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک کہ انہیں اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت حاصل نہیں ہو جاتا۔
