کراچی، 30 جون (اسٹاف رپورٹر) — پاکستان پیپلز پارٹی ضلع ملیر کے حلقہ پی ایس 86 میں تنظیم نو کے بعد اندرونی اختلافات شدت اختیار کرگئے، پارٹی پالیسی سے اختلاف کرتے ہوئے یوسی چیئرمینز، وائس چیئرمین اور پارٹی رہنماوں نے اپنے عہدوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔
یوسی کیٹل کالونی کے چیئرمین جاوید کاکو، یوسی چوکنڈی کے چیئرمین رشید پہنور، یوسی صالح محمد کے چیئرمین انور بلوچ اور یوسی چوکنڈی کے وائس چیئرمین حاجی منظور نے اپنے عہدوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ نئے صدر نظیر احمد بھٹو کے ساتھ کام نہیں کریں گے۔
واضح رہے کہ پیپلز پارٹی نے حال ہی میں کراچی کے پانچوں اضلاع میں تنظیم نو کا اعلان کیا تھا جس میں پی ایس 86 کی صدارت نظیر احمد بھٹو کو دی گئی، جس پر مقامی قیادت اور کارکنان نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
مستعفی ہونے والے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ نظیر احمد بھٹو کا تعلق پی ایس 87 سے ہے، انہیں پی ایس 86 کی صدارت سونپنا مقامی قیادت کی حق تلفی ہے۔
پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما حاجی چن زیب خان سواتی اور جاوید تاج نے بھی تنظیمی ذمہ داریاں چھوڑ کر عام کارکن کے طور پر کام کرنے کا اعلان کیا، جبکہ نومنتخب سیکریٹری جنرل رسول خان سواتی نے بھی صدر نظیر احمد بھٹو کے ساتھ کام کرنے سے انکار کردیا اور استعفوں کا اعلان کرنے والے تمام یو سی چیئرمینز کی حمایت کا اعلان کیا۔
رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پارٹی نے مقامی قیادت کے مطالبات کو نظر انداز کیا، جس پر وہ احتجاجاً اپنی خدمات واپس لے رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ نظیر احمد بھٹو کو فوری طور پر پی ایس 86 کی صدارت سے ہٹایا جائے اور تنظیم نو پر نظرثانی کی جائے۔
