کراچی: ضلع کیماڑی کی پولیس نے اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں ملوث بدنام زمانہ ملزم نعمت اللہ عرف مامئے کو رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیا۔ کارروائی تھانہ سائیٹ اے پولیس نے ایس پی سائیٹ ڈویژن زین رضا بلوچ اور ایس ایچ او انسپکٹر عمران آفریدی کی نگرانی میں انجام دی۔
پورے ملک میں زائدالمیعاد شناختی کارڈز پر جاری 49 لاکھ موبائل سمز بند کرنے کا آغاز
پولیس کے مطابق، گزشتہ رات میٹرو شاپنگ سینٹر سائیٹ ایریا کے قریب اسٹریٹ کرائم کی واردات کے دوران ملزم کو گرفتار کیا گیا۔ گرفتار ملزم اپنے ساتھیوں ذیشان خان اور ساحل کے ہمراہ شہری اسامہ بن حسین سے اسلحے کے زور پر موبائل فون اور تین ہزار روپے نقدی لوٹ کر فرار ہو رہا تھا۔
پولیس موبائل کی بروقت موجودگی اور مدعی کی نشاندہی پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم نعمت اللہ کو گرفتار کر لیا، جبکہ اس کے دونوں ساتھی تنگ گلیوں کا فائدہ اٹھا کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
گرفتاری کے دوران ملزم کے قبضے سے چھینا گیا موبائل فون، نقدی اور ایک غیر قانونی پستول بمعہ لوڈ میگزین برآمد کیا گیا۔
پولیس کے مطابق، ملزم کے خلاف مقدمہ الزام نمبر 322/25 بجرم دفعہ 397/34 درج کیا گیا ہے۔ مزید تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ نعمت اللہ اس سے قبل 17 جون کو بھی ساحل کے ساتھ مل کر موٹر سائیکل سوار شہری ماجد حسین شاہ سے موبائل اور 17 ہزار روپے چھین کر فرار ہو چکا ہے۔ اس واردات کا مقدمہ نمبر 320/25 درج ہے جبکہ واردات کی CCTV فوٹیج اور مدعی کی شناخت بھی موجود ہے۔
مزید برآں، 30 مئی کو ملزم نے اپنے ساتھی کے ہمراہ میٹرول بلاک 3 میں ایک 55 سالہ شہری خان ولد عظمت پر فائرنگ کرکے زخمی کر دیا تھا، جس پر مقدمہ الزام نمبر 280/25 بجرم دفعہ 324/34 درج ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نعمت اللہ عرف مامئے اس سے قبل بھی کئی بار گرفتار ہو کر جیل جا چکا ہے، جس کا مکمل سابقہ ریکارڈ درج ذیل ہے:
مقدمہ نمبر 35/23 – دفعہ 397/34، تھانہ سائیٹ اے
مقدمہ نمبر 36/23 – دفعہ 23(i)A، تھانہ سائیٹ اے
مقدمہ نمبر 293/23 – گٹکا ماوا، تھانہ مومن آباد
مقدمہ نمبر 111/24 – دفعہ 392/397/34، تھانہ سائیٹ اے
مقدمہ نمبر 117/24 – دفعہ 23(i)A، تھانہ سائیٹ اے
حالیہ گرفتاری کے بعد ملزم پر مقدمہ الزام نمبر 323/25 بجرم دفعہ 23(i)A بھی درج کرلیا گیا ہے، اور مزید انکشافات کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ پولیس نے فرار ہونے والے ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
