لندن: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے تمام مسائل، بشمول کشمیر اور پانی، صرف بات چیت سے ہی حل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری، خصوصاً امریکا پر زور دیا کہ وہ بھارت کو مذاکرات کی میز پر لانے میں فعال کردار ادا کرے، چاہے اسے "کان سے پکڑ کر” لانا پڑے۔
محرم الحرام 1447ھ: ضلع وسطی میں سیکیورٹی انتظامات کیلئے اہم اجلاس، فول پروف پلان تیار
لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ سیز فائر کی پاسداری کی جبکہ بھارت نے جھوٹے بیانیے کے ذریعے جنگ کا جواز پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی میڈیا "گودی میڈیا” بن چکا ہے جو جھوٹ پھیلاتا ہے، جبکہ پاکستانی میڈیا نے ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی، جس پر وہ خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو جنگی حکمت عملی میں مہارت پر فیلڈ مارشل کا اعزازی رتبہ دیا گیا، جو ان کی خدمات کا اعتراف ہے۔
سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ بھارت اسے یکطرفہ طور پر منسوخ نہیں کر سکتا، اور عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی ناقابل قبول ہے۔
بھارتی دہشتگردی کے عالمی اثرات پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ بھارت دہشت گرد تنظیموں کو فنڈنگ کر رہا ہے، خاص طور پر بی ایل اے اور مجید بریگیڈ جیسے گروہوں کو، جس سے پاکستان اور دیگر ممالک میں بدامنی پھیل رہی ہے۔ کینیڈا میں سکھ رہنما کے قتل پر وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کا بیان بھارت کے اصل چہرے کو بے نقاب کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اب بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں رہا، صدر ٹرمپ کے بیان نے اسے بین الاقوامی تنازع قرار دیا ہے۔ ہم امریکا کی مسئلہ کشمیر کے حل میں دلچسپی اور بیانات کا خیرمقدم کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ بھارت کی سازشیں ناکام ہوں گی۔
