پہلگام حملے کے بعد بھارت کو عالمی حمایت میں ناکامی، نئی دہلی کی جارحانہ حکمت عملی کو سفارتی دھچکا

22 اپریل کو پہلگام میں پیش آنے والے واقعے کے بعد بھارت کو ایک اور سفارتی دھچکا لگا ہے۔ نئی دہلی کو عالمی برادری سے جس حمایت کی امید تھی، وہ پوری نہ ہو سکی۔ بڑے عالمی کھلاڑیوں نے بھارت کی جارحانہ پالیسی پر واضح حمایت دینے سے گریز کیا۔

ہانیہ عامر نے پہلگام واقعے سے منسوب وائرل پوسٹ کو جھوٹا قرار دے دیا

بھارت نے حملے کو سرحد پار دہشتگردی قرار دے کر پاکستان پر الزامات لگائے اور کشیدگی کو بڑھایا۔ لیکن یہ ردعمل محض جذباتی نہیں تھا بلکہ ایک طویل مدتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت بھارت خود کو خطے میں سب سے بڑی طاقت کے طور پر منوانا چاہتا ہے۔

مودی حکومت، جو ہندو قوم پرست نظریات کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہے، جنوبی ایشیا میں بھارت کی بالا دستی چاہتی ہے۔ پہلگام حملے کو اسی بیانیے کے فروغ کا موقع سمجھا گیا۔

بھارتی حکام نے سوچا کہ امریکا، کواڈ الائنس اور چین مخالف عالمی رجحانات کی وجہ سے انہیں غیر مشروط حمایت ملے گی، لیکن عالمی ردعمل ان کے اندازوں کے برعکس نکلا۔

امریکا نے واضح طور پر کسی فریق کی حمایت نہیں کی۔ نائب صدر جے ڈی وینس کے دورہ بھارت کے باوجود صدر ٹرمپ نے اس معاملے میں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔ ان کا رویہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ بھارت کو فوجی کارروائی کا گرین سگنل دینے کے لیے تیار نہیں۔

امریکی اہلکاروں کے بیانات میں بھی پہلگام حملے یا پاکستان کا کوئی ذکر نہیں آیا۔ انہوں نے صرف عمومی دفاعی تعاون کی بات کی، جو بھارت کے لیے ایک واضح اشارہ تھا کہ واشنگٹن یکطرفہ حمایت نہیں دے گا۔

چین نے بھی ایک متوازن مؤقف اختیار کیا۔ اگرچہ انہوں نے واقعے کی مذمت کی، لیکن پاکستان کے آزادانہ تحقیقات کے مطالبے کی خاموش حمایت کی اور عسکری تعلقات مزید مضبوط بنانے کا اعادہ کیا۔

خلیجی ممالک جیسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر نے بھی غیرجانبداری کو ترجیح دی۔ انہوں نے کشیدگی کم کرنے اور پرامن حل پر زور دیا۔ ان ممالک کے بھارت اور پاکستان دونوں سے گہرے اقتصادی اور انسانی تعلقات ہیں، اس لیے وہ کسی ایک فریق کی کھلی حمایت سے گریز کر رہے ہیں۔

ان تمام عالمی ردعمل سے واضح ہوتا ہے کہ بھارت، جس نے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوشش کی، وہ کامیاب نہیں ہو سکا۔ عالمی برادری بغیر ٹھوس ثبوت کے کسی فریق کی کھلی حمایت کرنے کو تیار نہیں، اور بھارت کو اس جارحانہ پالیسی کا سفارتی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

58 / 100 SEO Score

One thought on “پہلگام حملے کے بعد بھارت کو عالمی حمایت میں ناکامی، نئی دہلی کی جارحانہ حکمت عملی کو سفارتی دھچکا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!