گھوٹکی: ڈہرکی کے قریب سندھ اسمبلی کے رکن جام مہتاب حسین ڈہر کے قافلے پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کر دیا، فائرنگ کے نتیجے میں ایک سیکیورٹی گارڈ جاں بحق اور تین افراد زخمی ہو گئے، تاہم جام مہتاب محفوظ رہے۔
بولان حملے کے بعد معطل جعفر ایکسپریس بحال، چمن سے کوئٹہ کے لیے روانہ
رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ ڈہرکی نرلی پل کے مقام پر پیش آیا، جہاں مسلح حملہ آوروں نے اچانک فائرنگ شروع کر دی۔ جاں بحق گارڈ کی لاش اور زخمیوں کو ڈہرکی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
جام ہاؤس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایم پی اے جام مہتاب اپنی زرعی زمینوں کے معائنے کے لیے گئے ہوئے تھے۔ جام مہتاب نے بیان میں کہا کہ ہماری گاڑیوں پر براہ راست فائرنگ کی گئی، تین سے چار افراد زخمی ہوئے، اور پولیس کو طلب کر لیا گیا ہے۔
ڈی ایس پی اوباڑو عبدالقادر سومرو کے مطابق یہ واقعہ کھینجو کے علاقے میں پیش آیا، جس کے بعد اوباڑو، ڈہرکی، کھینجو سے پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی ہے۔ ریسکیو ٹیمیں بھی جائے وقوعہ پر موجود ہیں۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس کو جلد ملزمان کی گرفتاری کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ قانون شکن عناصر کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
