شہباز شریف نے اپوزیشن کو میثاق جمہوریت کی نئی دعوت دے دی

میثاق جمہوریت کے حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر اپوزیشن کو مذاکرات اور قومی اتفاق رائے کی دعوت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ موجود رہ سکتے ہیں۔ تاہم قومی مفاد پر تمام جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر آنا چاہیے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ، بینک اکاؤنٹس بلاک کرنے پر پابندی

قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے ملکی سلامتی، جمہوری استحکام اور معاشی ترقی کے موضوعات پر اظہار خیال کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قومی اتحاد ضروری ہے۔ اسی لیے انہوں نے اپوزیشن کو دوبارہ بات چیت کی پیشکش کی۔

شہباز شریف اور میثاق جمہوریت کی اپیل

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ چند روز قبل 22 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ افسران اور جوان اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں تاکہ ملک کے عوام محفوظ رہ سکیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ قوم کو شہدا کی قربانیوں کا احترام کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق شہدا کے اہل خانہ اور بچوں کی قربانیاں بھی قومی تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔ اسی تناظر میں انہوں نے قومی یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے سیاسی قوتوں کو مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ چنانچہ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کو مذاکرات کی دعوت دی۔

قومی اسمبلی میں میثاق جمہوریت کا پیغام

شہباز شریف نے خطاب میں کہا کہ سیاست، نظریات اور سیاسی مؤقف مختلف ہو سکتے ہیں۔ تاہم پاکستان سب سے مقدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو قومی مفاد میں مل کر کام کرنا چاہیے۔

انہوں نے اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آئیں میثاق معیشت اور میثاق جمہوریت کی جانب بڑھیں۔ ان کے مطابق باہمی مکالمہ سیاسی استحکام اور ترقی کے لیے ضروری ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ وہ پہلے بھی کئی مرتبہ اس قومی مکالمے کی حمایت کر چکے ہیں۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے دی جانے والی ہر قربانی قابل قدر ہے۔

بلوچستان اور ریکوڈک کا حوالہ

وزیراعظم نے بلوچستان کے حقوق اور وسائل کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر نے صوبوں کے معاشی حقوق کی بات کی، جس پر کسی قسم کا اختلاف نہیں۔

انہوں نے ریکوڈک منصوبے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کے حصص واضح اور سب کے سامنے ہیں۔ ان کے مطابق یہ کوئی خفیہ معاملہ نہیں بلکہ عوامی ریکارڈ کا حصہ ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ ریکوڈک منصوبے میں بلوچستان کے عوام کے مفادات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ اسی لیے صوبے کے حصے اور حقوق کو نمایاں طور پر شامل کیا گیا۔

این ایف سی ایوارڈ اور بلوچستان ترقی

وزیراعظم نے بتایا کہ 2010 کے این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کا حصہ 100 فیصد بڑھایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کسی پر احسان نہیں تھا بلکہ قومی ذمہ داری تھی۔

ان کے مطابق بلوچستان پاکستان کا ایک اہم اور خوبصورت صوبہ ہے۔ وہاں کے عوام بہادر اور محنتی ہیں۔ مزید یہ کہ دیگر صوبوں نے بھی بلوچستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کیا۔

انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں کسانوں کے لیے 75 ارب روپے مالیت کے سولر پینلز فراہم کیے گئے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد زرعی شعبے کو سہولت دینا ہے۔

گوادر چمن شاہراہ منصوبہ

شہباز شریف نے کہا کہ گوادر سے چمن تک اہم شاہراہ کی تعمیر جاری ہے۔ ان کے مطابق یہ سڑک ہائی وے معیار کے مطابق بنائی جا رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے پر تقریباً 300 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ حکومت کے مطابق اس شاہراہ سے تجارت، نقل و حمل اور علاقائی رابطوں میں بہتری متوقع ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ترقیاتی منصوبے قومی ترقی کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی لیے حکومت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر کی بہتری پر توجہ دے رہی ہے۔

One thought on “شہباز شریف نے اپوزیشن کو میثاق جمہوریت کی نئی دعوت دے دی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!