ایران امریکا معاہدہ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان ایک ممکنہ مفاہمتی دستاویز پر پیش رفت جاری ہے۔ تاہم تاحال کسی حتمی معاہدے یا دستخطی تقریب کی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔
بھارتی فضائیہ کا اے این 32 طیارہ آسام میں گر کر تباہ
جی سیون سربراہ اجلاس 15 سے 17 جون کے درمیان فرانس کے شہر ایویان میں منعقد ہو رہا ہے۔ اسی دوران سفارتی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں بھی گردش کر رہی ہیں کہ جنیوا میں کسی ممکنہ مفاہمتی دستاویز پر دستخط ہو سکتے ہیں۔ تاہم ایرانی حکام نے اس بارے میں محتاط مؤقف اختیار کیا ہے۔
جنیوا میں ایران امریکا معاہدہ کی قیاس آرائیاں
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بعض سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران ایک مفاہمتی یادداشت (MOU) کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ جنیوا کو ممکنہ مقام کے طور پر زیر غور لایا گیا ہے۔
تاہم ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق معاہدے کے وقت اور مقام کے بارے میں گردش کرنے والی اطلاعات قبل از وقت ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا اور بعض بنیادی امور پر بات چیت جاری ہے۔
عباس عراقچی اور امریکی وفد کا ممکنہ کردار
رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے وزیر خارجہ Abbas Araghchi اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب امریکی وفد میں JD Vance اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے شامل ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
اگرچہ بعض رپورٹس میں دیگر شخصیات کے نام بھی زیر گردش ہیں، لیکن ان کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوئی۔ اسی لیے سفارتی مبصرین محتاط رویہ اختیار کرنے پر زور دے رہے ہیں۔
جی سیون اجلاس کی اہمیت
جی سیون اجلاس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال، عالمی سلامتی، یوکرین تنازع، اقتصادی نمو اور مصنوعی ذہانت سمیت متعدد اہم موضوعات زیر بحث آئیں گے۔ اجلاس فرانس کی میزبانی میں منعقد ہو رہا ہے۔
اس سال کے اجلاس میں خلیجی خطے کی صورتحال بھی اہم موضوعات میں شامل ہے۔ خصوصاً آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت اور علاقائی استحکام سے متعلق امور پر توجہ دی جا رہی ہے۔
آبنائے ہرمز اور سفارتی مذاکرات
حالیہ رپورٹس کے مطابق ممکنہ مفاہمت کا ایک اہم نکتہ آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیوں کی بحالی بھی ہو سکتا ہے۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں اس مسئلے پر پیش رفت ہوئی ہے۔
دوسری جانب ایران نے بعض دعوؤں کی تردید کی ہے اور واضح کیا ہے کہ معاہدے سے متعلق حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق دستخط کی تاریخ اور مقام کے بارے میں سامنے آنے والی بعض اطلاعات درست نہیں ہیں۔
ایران امریکا معاہدہ پر حتمی صورتحال
تاحال نہ واشنگٹن اور نہ ہی تہران نے کسی حتمی معاہدے پر دستخط کی سرکاری تصدیق کی ہے۔ البتہ مختلف بین الاقوامی ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے جاری ہیں اور ایک عبوری مفاہمتی دستاویز پر بات چیت ہو رہی ہے۔
اسی لیے موجودہ صورتحال کو ممکنہ پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، نہ کہ حتمی معاہدے کے طور پر۔ مزید تفصیلات آئندہ چند روز میں سامنے آنے کا امکان ہے، خصوصاً جی سیون اجلاس کے موقع پر۔