Donald Trump نے چین کا تین روزہ سرکاری دورہ مکمل کرنے کے بعد وطن واپسی اختیار کرلی، جہاں دورے کے آخری روز ان کی چینی صدر Xi Jinping سے ناشتے کی میز پر اہم ملاقات ہوئی۔
آئی ایم ایف کی پاکستان پر 11 نئی شرائط، آئندہ بجٹ میں 430 ارب روپے کے نئے ٹیکس متوقع
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان ایران، تجارت، عالمی معیشت اور دوطرفہ تعلقات سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر ٹرمپ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے معاملے پر امریکا اور چین کا مؤقف کافی حد تک یکساں ہے اور دونوں ممالک نہیں چاہتے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا عالمی معیشت اور تجارت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
امریکی صدر کے مطابق چین مرحلہ وار اپنی مارکیٹ کھولے گا اور امریکا سے تیل اور زرعی مصنوعات خریدنے پر آمادہ ہوا ہے، جبکہ ویزا پالیسی، تجارتی کمپنیوں اور معاشی تعاون کے معاملات پر بھی پیش رفت ہوئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس دورے کو “غیر معمولی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے انتہائی مثبت نتائج سامنے آئیں گے اور دونوں ممالک کے درمیان کئی اہم تجارتی معاہدے طے پائے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کے خواہاں ہیں اور تہران پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
امریکی صدر نے خبردار کیا کہ ایران کی جوہری تنصیبات مسلسل نگرانی میں ہیں اور کسی بھی غیر معمولی سرگرمی کی صورت میں فوجی ردعمل دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی ناکہ بندی جاری رہے گی اور کسی جہاز کو ایران داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔
صدر ٹرمپ کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر جوہری پروگرام پر اختلافات موجود ہیں، تاہم امریکا جن عناصر سے رابطے میں ہے وہ نسبتاً معقول رویہ رکھتے ہیں۔
اس سے قبل امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ چینی صدر نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے میں تعاون کی پیشکش کی ہے اور یقین دہانی کرائی ہے کہ چین ایران کو فوجی سازوسامان فراہم نہیں کرے گا۔
دورے کے اختتام پر صدر ٹرمپ نے اپنے چینی ہم منصب کے ہمراہ صدارتی کمپلیکس میں واقع شاہی باغ کا دورہ بھی کیا۔
