اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے صوبے میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے معاملے پر سیکیورٹی فورسز کا ساتھ نہیں دیا۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ وفاقی حکومت گورنر راج کے حق میں نہیں تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے لیے صوبائی حکومت کو قیادت کرنے کا موقع دیا، لیکن وہ تیار نہیں ہوئی۔
وزیر داخلہ کے مطابق سہیل آفریدی نے متعدد مواقع پر کہا کہ وہ سیاسی طور پر فوجی آپریشن کی حمایت نہیں کرسکتے۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ صوبائی حکومت نے دہشت گردی کی مذمت نہیں کی۔
پولیس کو مضبوط بنانے کے لیے مشاورت کا دعویٰ
محسن نقوی نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے کئی مرتبہ ملے۔ ان ملاقاتوں میں پانچ اضلاع میں پولیس کو مضبوط بنانے پر اتفاق ہوا تھا تاکہ وہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں کرسکے۔
وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا کہ یہ معاملہ انہوں نے خود وزیراعلیٰ کے ساتھ طے کیا تھا، تاہم بعد میں فیصلوں میں تبدیلی کی وجوہات پر انہوں نے سوال اٹھایا۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے اگست اور ستمبر سمیت مختلف اوقات میں صوبائی حکومت کو دہشت گردی کے خلاف تعاون پر آمادہ کرنے کی کوشش کی، لیکن ان کے بقول صوبائی حکومت نے آپریشن کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
مذاکرات سے پیچھے ہٹنے کی تردید
وزیر داخلہ نے مذاکرات کے معاملے پر کہا کہ وفاقی حکومت بات چیت سے پیچھے نہیں ہٹی اور نہ ہی اس نے کوئی ڈیڈ لائن مقرر کی۔
محسن نقوی کے مطابق مذاکرات کے دوران مختلف تجاویز پر اتفاق ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات میں سے بیشتر تسلیم کرلیے گئے تھے، جبکہ لانگ مارچ کے معاملے پر بھی بات چیت ہوئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے مالی مسائل حل کرنے کے لیے بھی انہوں نے وزیراعظم سے رابطہ کیا اور صوبائی حکومت کے مسائل حل کرانے کی کوشش کی۔
وزیر داخلہ کے مطابق وفاقی حکومت نے آخری وقت تک کوشش کی کہ 12 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔
سندھ میں چینی سرمایہ کاری کے لیے 2 درجن سے زائد معاہدوں کا اعلان
پی ٹی آئی کو مذاکرات کی نئی پیشکش
محسن نقوی نے پی ٹی آئی قیادت کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے بااختیار رہنما بات چیت کے لیے آئیں اور اپنے فیصلے کرنے کا اختیار لے کر آئیں۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے بھی بااختیار نمائندے مذاکرات میں شریک ہوں گے تاکہ معاملات کو موقع پر ہی طے کیا جاسکے۔
وزیر داخلہ نے مذاکرات کے چار نکات بھی بیان کیے:
اپوزیشن رہنماؤں اور وزیراعظم کی ملاقات۔
مذاکرات کے لیے سیاسی کمیٹی کی تشکیل۔
متعلقہ افراد کو ان کے قانونی حقوق کی فراہمی، جن میں علاج اور ملاقاتیں شامل ہیں۔
خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد۔
محسن نقوی نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پی ٹی آئی کی حکومت کے دور میں بھی تیار کیا گیا تھا۔
گورنر راج اور ایمرجنسی پر افسوس کا اظہار
وزیر داخلہ نے کہا کہ گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ حکومت کے لیے خوشی کا باعث نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہونے والے اہلکاروں کے جنازوں میں وفاقی حکام شریک ہوتے رہے، جبکہ صوبائی حکومت کے نمائندے اکثر موجود نہیں ہوتے تھے۔
انہوں نے بنوں میں سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادت کے بعد وزیراعلیٰ کی جانب سے فوج پر تنقید کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے معاملے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
محمود اچکزئی کے بیان پر ردعمل
محسن نقوی نے اپوزیشن رہنما محمود خان اچکزئی کے فارم 47 سے متعلق بیان پر بھی ردعمل دیا۔
انہوں نے کہا کہ اچکزئی کو دوسروں سے قسم لینے کے بجائے پہلے اپنی نشست کے حوالے سے وضاحت دینی چاہیے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ پارلیمنٹ میں موجود افراد کی انتخابی کامیابی کے بارے میں قسم نہیں کھا سکتے۔