سندھ میں چینی سرمایہ کاری کے لیے 2 درجن سے زائد معاہدوں کا اعلان

شنگھائی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کی دوستی کا اگلا مرحلہ حکومتی تعاون کے ساتھ کاروباری اداروں کی شراکت داری سے آگے بڑھے گا۔ انہوں نے یہ بات شنگھائی میں سندھ سرمایہ کاری و تجارت کانفرنس سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے کہی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کانفرنس کے انعقاد میں تعاون پر شنگھائی حکومت اور پاکستانی سفارتی حکام کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر دوطرفہ دوستی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

مراد علی شاہ کے مطابق شنگھائی اور کراچی 1984 سے جڑواں شہر ہیں۔ دونوں اہم تجارتی اور بحری مراکز ہیں۔ کراچی شنگھائی کے ترقیاتی تجربے سے فائدہ اٹھا کر عالمی تجارتی مرکز بننے کی کوشش کر رہا ہے۔

سندھ میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع

وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار میں تقریباً 27 فیصد حصہ ڈالتا ہے۔ عالمی بینک کے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے صوبے کی معاشی اہمیت اجاگر کی۔

ان کے مطابق سندھ کی آبادی تقریباً 5 کروڑ 57 لاکھ ہے۔ صوبے میں بڑی افرادی قوت اور صارفین کی منڈی موجود ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ بندرگاہوں، صنعت، زراعت، توانائی اور معدنی وسائل کی موجودگی سندھ کو سرمایہ کاری کے لیے اہم مواقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے چینی سرمایہ کاروں کو توانائی، معدنیات، زراعت، ٹیکنالوجی اور صنعت سمیت مختلف شعبوں میں شراکت داری کی دعوت دی۔

توانائی اور معدنیات کے منصوبے

وزیراعلیٰ سندھ نے صوبے میں جاری پاک چین منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تھر، جھمپیر اور پورٹ قاسم میں چینی سرمایہ کاری توانائی کے شعبے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تھر بلاک ٹو میں چائنا مشینری انجینئرنگ کارپوریشن سندھ حکومت کی شراکت دار ہے۔ شنگھائی الیکٹرک کا تھر بلاک ون منصوبہ 1,320 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہا ہے، جبکہ اس نے 2023 میں تجارتی آپریشن شروع کیا۔

مراد علی شاہ کے مطابق پورٹ قاسم کا کوئلے سے بجلی پیدا کرنے والا منصوبہ بھی 1,320 میگاواٹ صلاحیت رکھتا ہے۔ اس منصوبے میں تقریباً 2.085 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی۔ پاور چائنا اور قطر کی المرقاب نے مشترکہ سرمایہ کاری کی، جبکہ منصوبے سے 5 ہزار سے زائد مقامی ملازمتیں پیدا ہوئیں۔

انہوں نے جھمپیر میں چائنا تھری گورجز کارپوریشن کے ونڈ پاور منصوبوں کو بھی سراہا۔ ان کے مطابق سندھ کے ونڈ کوریڈور میں تقریباً 50 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ کے کوئلے، گرینائٹ اور دیگر معدنی وسائل کو خام حالت میں برآمد کرنے کے بجائے مقامی سطح پر پراسیس کیا جانا چاہیے۔ اس سے صنعتی سرگرمیوں اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

دھابیجی اکنامک زون میں صنعتوں کی دعوت

مراد علی شاہ نے دھابیجی اسپیشل اکنامک زون کو سی پیک کے ترجیحی منصوبوں میں شامل قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ زون 1,530 ایکڑ پر محیط ہے اور پورٹ قاسم کے قریب واقع ہے۔ یہاں براہ راست سڑک رابطے کی سہولت بھی موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ دھابیجی میں آٹوموبائل، انجینئرنگ، کیمیکلز، اسٹیل، ادویات اور الیکٹرانکس کی صنعتیں قائم کرنے کی تجویز ہے۔

وزیراعلیٰ کے مطابق یہ زون چینی کمپنیوں کو پاکستان میں پیداواری یونٹس منتقل کرنے یا اپنے کاروبار کو وسعت دینے کے مواقع فراہم کرسکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ قانون کے تحت سندھ کے خصوصی اقتصادی زونز میں 10 سالہ انکم ٹیکس چھوٹ اور مشینری کی ڈیوٹی فری درآمد کی سہولت دستیاب ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت سرمایہ کاروں کو ابتدائی رابطے سے پیداوار شروع ہونے تک ون ونڈو سہولت فراہم کرتی ہے۔

ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل معیشت پر توجہ

وزیراعلیٰ سندھ نے ایجوکیشن سٹی اسپیشل ٹیکنالوجی زون کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ یہ 435 ایکڑ پر قائم ہے اور سندھ حکومت کا پہلا ٹیکنالوجی زون ہے۔

ان کے مطابق یہاں سافٹ ویئر سروسز اور ڈیجیٹل شعبے کی کمپنیوں کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں۔

انہوں نے چینی سرمایہ کاروں کو ڈیٹا انفراسٹرکچر، فن ٹیک، زرعی ٹیکنالوجی، صاف توانائی، بائیوٹیکنالوجی اور الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں صنعت، زراعت، معدنیات، ٹیکنالوجی اور کاروباری شراکت داری پر توجہ بڑھ رہی ہے۔

زراعت اور زرعی مصنوعات کی پراسیسنگ

وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ کی زراعت چاول، کپاس، گندم، گنے، پھلوں اور کھجوروں کی پیداوار میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

انہوں نے چینی کمپنیوں کو چاول کی پراسیسنگ، آم کے گودے، کھجوروں کی خشک کاری اور لال مرچ کی پراسیسنگ میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔

ان کے مطابق چینی ٹیکنالوجی اور سندھ کی زرعی پیداوار کو یکجا کرکے پراسیسنگ، کولڈ چین، پیکجنگ اور برآمدات کا مؤثر نظام قائم کیا جاسکتا ہے۔

مراد علی شاہ نے توانائی، معدنیات، الیکٹرک گاڑیوں، آٹوموبائل، ڈیجیٹل تبدیلی، زراعت اور لاجسٹکس کو صوبے کے ترجیحی شعبے قرار دیا۔

کراچی کی بندرگاہیں تجارتی سرگرمیوں کا مرکز

وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی بندرگاہ اور پورٹ قاسم کی تجارتی اہمیت بھی اجاگر کی۔

انہوں نے بتایا کہ کراچی بندرگاہ نے مالی سال 2024-25 میں تقریباً 5 کروڑ 39 لاکھ 50 ہزار ٹن سامان ہینڈل کیا۔ اس کی سالانہ گنجائش 12 کروڑ 50 لاکھ ٹن سے زائد بتائی گئی ہے۔

ان کے مطابق پورٹ قاسم میں 18 برتھ ہیں اور بندرگاہ کی سالانہ سامان ہینڈلنگ کی صلاحیت تقریباً 8 کروڑ 90 لاکھ ٹن ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ پورٹ قاسم قومی شاہراہ، موٹروے اور ریلوے نیٹ ورک سے منسلک ہے۔ یہ رابطے صنعتی ترقی اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے اہم سہولت فراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چینی صنعت کار مقامی توانائی اور صنعتی وسائل استعمال کرکے پاکستان اور عالمی منڈیوں کے لیے مصنوعات تیار کرسکتے ہیں۔

دو درجن سے زائد مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط

وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق صوبائی حکومت کانفرنس کے دوران مختلف شعبوں میں دو درجن سے زائد مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہر معاہدے کے لیے محکمہ سرمایہ کاری میں فوکل پرسن مقرر کیا جائے گا۔ منصوبوں کی پیش رفت کا اعلیٰ سطح پر جائزہ بھی لیا جائے گا۔

مراد علی شاہ نے واضح کیا کہ معاہدوں پر دستخط کام کا اختتام نہیں بلکہ آغاز ہیں۔ سندھ حکومت سرمایہ کاری کے منصوبوں پر عملی پیش رفت اور ان پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے گی۔

One thought on “سندھ میں چینی سرمایہ کاری کے لیے 2 درجن سے زائد معاہدوں کا اعلان”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!