غازیان وطن کی شجاعت اور بہادری کو سلام، وطن سے محبت کی ایک اور داستان

تشکُّر نیوز رپورٹنگ،

سرزمین پاکستان کی مٹی میں لا تعداد شہداء اور غازیوں کا خون شامل ہے

سرزمین پاکستان کی مٹی میں لا تعداد شہداء اور غازیوں کا خون شامل ہے جنھوں نے دفاع وطن کی خاطر اپنا تن من قربان کردیا۔ ان شیروں اور غازیوں میں ان شیروں اور غازیوں میں ہری پورسے تعلق رکھنے والے آرٹلری کور کے سپاہی محسن خان بھی شامل ہیں۔

سپاہی محسن خان نے اپنی سروس میں وہ کارنامہ سر انجام دیا جو نوجوانان پاکستان کے لیے دلیری کی زندہ و تابندہ مثال ہے، سپاہی محسن خان نے یکم اور 2 فروری2012 کی درمیانی شب کو ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کلاچی میں دہشت گردوں کیخلاف لڑتے ہوئے اپنی ایک ٹانگ کی قربانی دے دی۔ اس غازی کا جذبہ آج بھی ملک کی خدمت کے لیے جوان ہے۔

اپنی آپ بیتی سناتے ہوئے سپاہی محسن خان کا کہنا تھا کہ میں ہری پور کا رہنے والا ہوں، میں نے 2010ء میں پاکستان آرمی کی آرٹلری کور میں شمولیت کی، 2012 میں اپنی یونٹ کے ہمراہ ڈیرہ اسماعیل خان میں تعینات تھا۔

انہوں نے کہا کہ یکم اور دو فروری 2012ء کی درمیانی شب ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کلاچی میں ہمیں دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع موصول ہوئی اور ہمیں آپریشن کا حکم ملا، دوران آپریشن مجھے اور میری ٹیم کو آؤٹر گارڈن لگانے کی ذمہ داری سونپی گئی، جب ہم آؤٹر گارڈن لگا رہے تھے تو دہشتگردوں کی جانب سے فائرنگ کی گئی۔

سپاہی محسن خان کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے نتیجے میں مجھے دو گولیاں لگیں، جوابی کارروائی میں دو دہشتگرد زخمی ہوئے اور ہم نے کامیاب آپریشن کرتے ہوئے 10 دہشتگردوں کو پکڑ لیا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے فوری طور پر سی ایم ایچ ڈیرہ اسماعیل خان منتقل کیا گیا جہاں میری ایک ٹانگ کاٹ دی گئی، مجھے غم تو تھا لیکن فخر بھی تھا کہ وطن پاکستان کیلئے یہ قربانی دی، میں پاکستان آرمی کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے میرا بہت اچھا علاج کیا۔

پاکستان آرمی نے دہشتگردوں کیخلاف قربانی، بہادری اور دلیری کو دیکھتے ہوئے سپاہی محسن خان کو 23 مارچ 2013ء کو تمغہ بسالت سے نوازا۔

سپاہی محسن خان کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں کیلئے میرا ایک پیغام ہے وہ جتنی بھی کوشش کرلیں ہم ان کے ہر منصوبے کو ناکام بنائیں گے اور بھرپور انداز سے مقابلہ کرکے انہیں نیست و نابود کرینگے۔ میں نے آرمی چیف سے بھی یہ بات کی تھی کہ میرے چھ بچے ہیں اور چھ کے چھ پاک فوج پر قربان کرتا ہوں، جس وقت بھی ضرورت پڑے گی میں بھی حاضر ہوں اور میرے بچے بھی حاضر ہیں۔

والد سپاہی محسن خان کا کہنا ہے کہ مجھے اپنے بیٹے پر بہت فخر ہے جو غازی ہے، شہید بھی ہو جاتا تو الحمد اللہ، یہ اس اللہ کی رضا ہے ہمیں اس پر فخر ہے، پاک فوج اور ملک کیلئے ہماری جان حاضر ہے۔ میرے بیٹے نے جو ملک کیلئے قربانی دی ہے مجھے اس پر فخر ہے۔ سپاہی محسن خان کے اہلیہ کا کہنا تھا کہ مجھے فخر ہے کہ میں ایک غازی کی بیوی ہوں جس نے پاکستان کیلئے قربانی دی، میں ہر وقت ان کے ساتھ ہوں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!