میئر کراچی کا 23 مارچ کو کراچی میٹروپولیٹن میوزیم کھولنے اور کراچی کی غیر معمولی خدمت کرنے والے ہیروز کو یوم آزادی پر تمغہ کراچی دینے کا اعلان

تشکُّر نیوز رپورٹنگ،

کراچی کے حوالے سے مفید اور معلوماتی دستاویزی فلم بنانے والوں کو بھی نقد انعام اور تمغہ دیا جائے گا، کے ایم سی میں ٹیکس کی ریکوری کے نظام کو بہتر اور شفاف بناکر حاصل ہونے والی تمام رقم سٹی کونسل کے منتخب نمائندوں کے فیصلے کے مطابق شہریوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کی جائے گی،پریس کانفرنس

کراچی( 31 دسمبر2023ء) میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے 23 مارچ 2024ء کو تاریخی ڈینسو ہال میں کراچی میٹروپولیٹن میوزیم شہریوں کے لئے کھولنے اور کراچی کی گرانقدر اور غیر معمولی خدمت کرنے والے ہیروز کو ہر سال 14 اگست پر تمغہ کراچی دینے کا اعلان کیا ہے،

 کراچی کے حوالے سے مفید اور معلوماتی دستاویزی فلم بنانے والوں کو بھی نقد انعام اور تمغہ دیا جائے گا، کے ایم سی میں ٹیکس کی ریکوری کے نظام کو بہتر اور شفاف بناکر حاصل ہونے والی تمام رقم سٹی کونسل کے منتخب نمائندوں کے فیصلے کے مطابق شہریوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کی جائے گی، کے ایم سی اور ٹائون انتظامیہ کے مابین پارکنگ فیس ،

انسداد تجاوزات اور اراضی کے معاملات کو سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت حل کیا جائے گا، ٹریفک مسائل حل کرنے کے لئے شہر کے مختلف مقامات پر پارکنگ پلازہ بنانے کے منصوبے پر کام کیا جا رہا ہے، یہ بات انہوں نے اتوار کے روز ڈینسو ہال میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی،

اس موقع پر میونسپل کمشنر سید افضل زیدی، میئر کراچی کے نمائندہ برائے سیاسی امور کرم اللہ وقاصی، سٹی کونسل میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد ، سینئر ڈائریکٹر میڈیا مینجمنٹ علی حسن ساجد، سینئر ڈائریکٹر کلچر اینڈ اسپورٹس سیف عباس حسنی اور دیگر افسران بھی موجود تھے، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کراچی ایک تاریخی شہر ہے بلدیہ عظمیٰ کراچی شہر کے تاریخی ورثے کی بحالی اور بہتری پر کام کر رہی ہے، کراچی میں ڈینسو ہال ، فریئر ہال ، میری ویدر ٹاور ، کے پی ٹی بلڈنگ اور کے ایم سی بلڈنگ جیسی عظیم تاریخی عمارتیں موجود ہیں، یہ شہر کا تاریخی ورثہ ہے جسے بدقسمتی سے تعصب اور نفرت کی سیاست میں کہیں چھپا دیا گیا، ہم اپنے آئندہ نسلوں کو بتائیں گے کہ اس شہر کا تاریخی پس منظر کیا رہا ہے جس کے لئے سٹی کونسل کے حالیہ اجلاس میں پاکستان کے پہلے میٹروپولیٹن میوزیم کے قیام کی منظوری دی گئی، 1886ء میں بننے والی ڈینسو ہال کی تاریخی عمارت میں یہ میوزیم قائم ہوگا، انہوں نے اس موقع پر کراچی کے حوالے سے تاریخی ریکارڈ اور دستاویزات دکھائیں اور کہا کہ زمینوں کی رجسٹری کے حوالے سے کس زمانے میں نظام آیا تھا ، اس شہر میں سب کچھ ہے پھر بھی لوگ منفی پروپیگنڈا کرتے ہیں، کراچی میں پہلا برتھ سرٹیفکیٹ کب بنا اس کی تفصیلات بھی موجود ہیں ، ڈیتھ سرٹیفکیٹ کا رجسٹر بھی ہم نے نکلوایا ہے ، فریئر گارڈن کے اندر لگی مورتیاں بھی کسی کے گھر لگ گئی تھیں ،

محترمہ فاطمہ جناح کو 1966 میں زمین الاٹ کی گئی ، کے ایم سی کی عمارت میں ملکہ برطانیہ کے علاوہ یاسر عرفات، قائداعظم، شاہ فیصل، ذوالفقار علی بھٹو آئے، ہم یہ تمام تفصیلات اپنے میوزیم میں آویزاں کریں گے اوراپنے بچوں کو تاریخی واقعات سے آگاہ کرینگے ، اس شہر میں بہت کچھ ہے جو لوگوں سے چھپا ہوا ہے ، پیپلزپارٹی کے تحت چلنے والی بلدیہ عظمیٰ کراچی اس شہر کی تاریخ اجاگر کرے گی ، آنے والا وقت ہمارے حق میں بہتر ثابت ہوگا،انہوں نے کہا کہ سال کے اختتامی دن میڈیا کے ذریعے کچھ فیصلوں سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں ،وسیم اختر کے آخری سال کے ایم سی کی آمدنی ایک اعشاریہ دو ارب تھی، 2023 کے پہلے چھ ماہ میں 580ملین کے ایم سی کی آمدنی ہوئی، ہمارے پانچ ماہ میں کے ایم سی کی آمدنی ایک ارب روپے ہوئی ،اگلے چھ ماہ میں ٹیکس کے نظام کو مزید بہتر کریں گے ،جو لوگ کہتے تھے اس شہر میں کام نہیں ہو سکتا ان کے لیے جواب، پیپلزپارٹی کا میئر اور پیپلزپارٹی کی انتظامیہ کام کر رہی ہے، حاصل ہونے والی ایک ایک پائی کو خرچ کرنے کا فیصلہ سٹی کونسل میں منتخب نمائندے کریں گے، عوام کا پیسہ عوامی فلاح و بہبود پر ہی خرچ ہوگا، یہ کارکردگی ان لوگوں کے لئے جواب ہے جو کہتے تھے ہمارے پاس اختیارات اور وسائل نہیں، انہوں نے کہا کہ جو قومیں اپنے ہیروز کو بھلا دیتی ہیں وہ ترقی نہیں کرسکتیں لہٰذا کے ایم سی نے فیصلہ کیا ہے کہ جو لوگ اس شہر کی خدمت کرتے ہیں جن میں میونسپل عملہ، قانون نافذ کرنے والے ادارے ، فنکار، پیرامیڈیکل اسٹاف، ڈاکٹرز، انجینئرز اور دیگر شامل ہیں انہیں ہر سال 14 اگست کو یوم آزادی پر تغمہ کراچی پیش کرکے ان کی خدمات کا اعتراف کیا جائے ، ہر سال 23 مارچ کو سٹی کونسل فیصلہ کرے گی کہ کن لوگوں کو اس تمغے سے نوازا جائے، انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ کے ایم سی آل کراچی سالانہ فٹ بال ، ہاکی ،کرکٹ اور دیگر کھیلوں کے ٹورنامنٹ کرائے گی اور بہترین ٹیموں کو ایوارڈز دیئے جائیں گے، میئر کراچی نے کہا کہ شہر میں صفائی ستھرائی اور پارکنگ کے حوالے سے شہریوں کو بھی اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہے، گلستان جوہر میں انڈر پاس ہم نے بنایا جھنڈے اور بینرز کسی اور کے لگ گئے جس طرح اپنے گھر کو صاف رکھتے ہیں ہمیں شہر کو بھی صاف رکھنا چاہئے، وال چاکنگ نہ کریں، میں شہر کا میئر ہوں میری تصویر کہیں نہیں، حافظ نعیم صاحب کی تصویریں شہر میں ڈائریکشن کے لیے لگائے گئے بورڈ پر آویزاں ہیں، میں کہوں گا خدارا سیاسی جماعتیں پیڈسٹرین برج کو ذاتی تشہیر کے لیے استعمال نہ کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!