پاکستان نیول اکیڈمی میں 120ویں مڈ شپ مین اور 28ویں شارٹ سروس کمیشننگ پریڈ کا انعقاد

تشکُّر نیوز رپورٹنگ،

پریس ریلیز
ڈائریکٹوریٹ جنرل پبلک ریلیشنز (نیوی)
نیول ہیڈکوارٹرز اسلام آباد

پاکستان نیول اکیڈمی میں 120ویں مڈ شپ مین اور 28ویں شارٹ سروس کمیشننگ پریڈ کا انعقاد

کراچی, 30 دسمبر 23: 120ویں مڈشپ مین اور 28 ویں شارٹ سروس کمیشن کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ پاکستان نیول اکیڈمی کراچی میں منعقد ہوئی۔ چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نےاس موقع پر بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ کمیشن حاصل کرنے والا دستہ 88 مڈ شپ مین پر مشتمل تھا جن میں سے 60 کا تعلق پاکستان، 01 بحرین اور 27 کا تعلق سعودی عرب سے تھا جبکہ ایس ایس سی کورس کے 44 افسران بشمول 12خاتون افسران بھی اس میں شامل تھیں۔

چیف آف دی نیول اسٹاف نے جیو اسٹریٹجک ماحول پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جب تک کشمیر کا دیرینہ مسئلہ اس کے عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل نہیں ہوتا، جنوبی ایشیا میں امن و استحکام ناممکن رہے گا۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ غیر قانونی طور پر قابض بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور مظالم کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کریں، اور شہریوں کو حق خود ارادیت کے استعمال کی اجازت دی جائے۔

اپنے خطاب کے دوران امیرالبحر نے غزہ میں مصائب کے فوری خاتمے کی ضرورت پر بھی زور دیا کیونکہ فلسطینی شہریوں پر طاقت کا اندھا دھند استعمال انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور جنگی جرائم کا فروغ ہے جن کی فوری روک تھام ضروری ہے۔ مزید برآں، نیول چیف نے کہا کہ پاکستان فلسطینیوں کی سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق مسئلہ فلسطین کے منصفانہ، جامع اور پائیدار حل پر زور دیتا رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ایک مستحکم اور محفوظ افغانستان کا خواہاں ہے، جو علاقائی اتحاد، ترقی اور خوشحالی کا ضامن ہے۔

مہمان خصوصی نے کمیشنگ ٹرم اور ان کے والدین کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے بچوں میں قوم کی خدمت کا جذبہ پیدا کرنے پر والدین کو سراہا جس کی بدولت وہ بالآخر اس باوقار سروس کا حصہ بنے۔ امیرالبحر نے معیاری تربیت فراہم کرنے پر پاکستان نیول اکیڈمی کی تعریف کی اور اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان نیول اکیڈمی میں تربیت یافتہ دوست ممالک کے کیڈٹس دوستانہ تعلقات کو بڑھانے کے لیے ہمارے برینڈ ایمبیسیڈر کا کردار ادا کریں گے۔ سربراہ پاک بحریہ نے نوجوانوں کو جنگ کی نئی جہت کے بارے میں بھی تاکید کی جو کہ غیر مستند خبروں کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال ہے، اور یہ ففتھ جنریشن وارفئیر کا ایک لازمی جزو بن چکا ہے۔

بعد ازاں مہمان خصوصی نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں میں انعامات تقسیم کئے۔ لیفٹیننٹ محمد طلحہ مسعود کو ان کی مجموعی بہترین کارکردگی پر قائد اعظم گولڈ میڈل دیا گیا۔ مڈشپ مین آیان یامین نے اعزازی شمشیر جبکہ مڈشپ مین ثنااللٰہ سفیرنے اکیڈمی ڈرک جیتی۔ آفیسر کیڈٹ عبداللٰہ وحید کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی گولڈ میڈل اور آفیسر کیڈٹ سلطان عبدالرحمٰن حماد صالح علرویائ کو چیف آف دی نیول اسٹاف گولڈ میڈل دیا گیا جبکہ شارٹ سروس کمیشن کورس سے آفیسر کیڈٹ آسیہ صفدر نے کمانڈنٹ گولڈ میڈل جیتا۔ مزید براں، فوکسل سکواڈرن پرافیشنسی بینر کا فاتح رہا۔

قبل ازیں، اپنے استقبالیہ خطاب میں کمانڈنٹ پاکستان نیول اکیڈمی کموڈور محمد خالد نے پاکستانی اور دوست ممالک کے کیڈٹس کو فراہم کی جانے والی تعلیمی اور پیشہ ورانہ تربیت کی بنیادی خصوصیات پر روشنی ڈالی۔

پریڈ میں اعلیٰ سول و ملٹری افسران اور کیڈٹس کے والدین نے شرکت کی۔

ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز (نیوی)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!