امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے لیاقت آباد ڈاکخانہ کے قریب قائم سرد خانے کا افتتاح کردیا۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لیاقت آباد ٹاؤن کراچی کا پہلا ٹاؤن ہے جہاں سرد خانہ قائم کیا گیا ہے۔
منعم ظفر خان کے مطابق کراچی ساڑھے تین کروڑ آبادی کا شہر ہے، لیکن شہری بنیادی سہولیات کے ساتھ میتیں محفوظ رکھنے کے لیے سرد خانوں کی سہولت سے بھی محروم ہیں۔
ہیٹ اسٹروک کے دوران سرد خانوں کی کمی کا مسئلہ
منعم ظفر خان نے کہا کہ ہیٹ اسٹروک کے نتیجے میں 1100 اموات ہوئیں۔ ان کے بقول، اس دوران شہری اپنے پیاروں کی میتیں سرد خانوں میں رکھنے کے لیے پریشان ہوتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کنکریٹ کا جنگل بن چکا ہے اور گنجان آباد علاقوں میں میت کو فلیٹوں میں رکھنا مشکل ہوتا ہے۔
ان کے مطابق لیاقت آباد ٹاؤن نے کچرے کی جگہ کو قابلِ استعمال بنا کر سرد خانہ قائم کیا ہے، جہاں تمام ضروری سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔
سندھ حکومت اور کے ایم سی سے سوال
امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ سرد خانے قائم کرنا سندھ حکومت اور کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر لیاقت آباد ٹاؤن یہ کام کرسکتا ہے تو وزیراعلیٰ سندھ اور صوبائی حکومت ایسا کیوں نہیں کرسکتی۔
منعم ظفر خان نے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ کراچی کے عوام سے ووٹ نہ دینے کا بدلہ لے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں نے پیپلز پارٹی کو مسترد کیا ہے، اسی لیے ان کے مسائل حل نہیں کیے جارہے۔
انہوں نے صوبائی حکومت اور بلدیاتی نظام کی کارکردگی پر بھی تنقید کی اور کراچی کی موجودہ شہری حکومت کو بدترین حکومت قرار دیا۔
صفائی اور ترقیاتی منصوبوں پر تنقید
منعم ظفر خان نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ گلیوں اور پیور بلاکس کے افتتاح میں مصروف ہیں، جبکہ چنیسر ٹاؤن کی صورتحال چنیسر گوٹھ جیسی دکھائی دیتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سینیٹیشن کا عملہ ٹاؤن کے پاس ہونے کے باوجود صفائی ستھرائی کا مؤثر کام نظر نہیں آتا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پیپلز پارٹی ایسے منصوبوں کے افتتاح میں دلچسپی رکھتی ہے جہاں کرپشن کے امکانات ہوں۔ ان کے مطابق بعض انڈر پاسز اور اوور ہیڈ برجز ایسی جگہوں پر بنائے جاتے ہیں جہاں ان کی ضرورت نہیں ہوتی۔
کراچی میں ماس ٹرانزٹ منصوبوں کی ضرورت
منعم ظفر خان نے کہا کہ کراچی کو ماس ٹرانزٹ، سرکلر ریلوے اور مونو ریل جیسے منصوبوں کی ضرورت ہے۔
انہوں نے ریڈ لائن اور گرین لائن منصوبوں کے حوالے سے کہا کہ ان کے نام پر شہر کو کھود کر رکھ دیا گیا ہے۔
امیر جماعت اسلامی کراچی نے پیپلز پارٹی سے اپنی ناکامی تسلیم کرنے اور کراچی کے عوام کو نمائشی اقدامات کے بجائے عملی سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
لیاری ٹرانسفارمیشن منصوبے پر بھی سوالات
منعم ظفر خان نے کہا کہ لیاری میں گزشتہ 55 سال سے پیپلز پارٹی کی حکومت ہے۔ انہوں نے لیاری کو پیرس بنانے کے دعوؤں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ لیاری ٹرانسفارمیشن کے نام پر اربوں روپے خرچ کیے جانے کے باوجود عملی تبدیلی دکھائی نہیں دیتی۔