کراچی شہر میں غیر قانونی تعمیرات کے معاملے پر سماعت ہوئی۔

تشکُّر نیوز رپورٹنگ،

جسٹس صلاح الدین پنہور پر مشتمل دو رکنی بنچ نے اہم فیصلہ سنا دیا۔

سندھ ہائی کورٹ

جسٹس صلاح الدین پنہور نے حکم دیا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ بلڈنگ پلان کی خلاف ورزی پر رپورٹ شامل ہو۔ سندھ ہائی کورٹ نے حکام کے نوٹس کے بغیر غیر قانونی عمارتوں میں توسیع کو غیر قانونی قرار دے دیا۔

عدالت نے محکمہ لوکل گورنمنٹ کے سیکرٹری، محکمہ خزانہ کے سیکرٹری اور ایس بی سی اے کے ڈی جی کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران ایس بی سی اے میں فراہم کیے گئے فنڈز سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔

عدالت نے ایس بی سی اے کے گزشتہ پانچ سالوں میں خرچ کیے گئے مختلف منصوبوں کی رپورٹ طلب کر لی۔تحریری حکم عدالت نے منصوبے کی منظوری کے لیے فیس، جرمانے اور ریگولرائزیشن فنڈز کے استعمال کی رپورٹ بھی طلب کر لی۔

ایس بی سی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹرز انسپکٹرز اور دیگر متعلقہ افسران کو گزشتہ پانچ سالوں میں فراہم کی گئی گاڑیوں کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔

کیا SBCA کے پاس قانون نافذ کرنے والی فورس ہے یا وہ اسے بنانے کا ارادہ رکھتی ہے؟ عدالت نے پوچھا

شہر کے مختلف علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات کو روکنا سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا فرض ہے۔جسٹس صلاح الدین پنہور

کیا ایس بی سی اے کے پاس غیر قانونی تعمیرات کی جانچ اور روک تھام کا مکمل نظام ہے؟عدالت سے استفسار کریں۔

اگر کوئی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہے تو اس کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کیا جائے۔ تحریری حکم نامہ

سندھ ہائی کورٹ نے تجویز دی کہ غیر قانونی تعمیرات کے جرم کی تحقیقات کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں۔

جسٹس صلاح الدین پنہور نے حکم دیا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے حکام قانون کے مطابق نظام اور اس کے نفاذ کا جائزہ لیں۔

عدالت نے ابتدائی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 5 مارچ تک ملتوی کر دی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!