کراچی کے میئر بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے ضلع ملیر کے گڈاپ ٹاؤن میں صالح محمد واٹر پمپنگ اسٹیشن کا افتتاح کردیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے میمن گوٹھ روڈ کے اطراف کی آبادیوں، جعفر طیار، کھوکھرا پار اور فردوس کالونی کے مکینوں کو فائدہ پہنچے گا۔
افتتاحی تقریب میں ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد، رکن سندھ اسمبلی راجہ عبدالرزاق، کے ایم سی سٹی کونسل کے نمائندوں، کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے چیف آپریٹنگ آفیسر اسد اللہ خان اور دیگر حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر متعلقہ حکام نے میئر کراچی کو پمپنگ اسٹیشن کی استعداد اور علاقے میں پانی کی فراہمی بہتر بنانے کے اقدامات پر بریفنگ دی۔
پانی کی فراہمی بہتر بنانے کے اقدامات
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ صالح محمد واٹر پمپنگ اسٹیشن پر کئی دہائیوں بعد کام کیا گیا ہے۔ یہاں کلورینیشن سینٹر بھی فعال کردیا گیا ہے، جس سے پانی کی فراہمی کے نظام میں بہتری آنے کی توقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ گلشن حدید میں اسٹیل مل کی جانب سے پانی کی فراہمی بند ہونے کے بعد مکینوں کو مشکلات کا سامنا تھا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے نمائندوں نے اس مسئلے کے حل کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ میمن گوٹھ روڈ کو بہتر بنانے کے لیے بھی کام کیا جا رہا ہے تاکہ شہریوں کو آمدورفت میں سہولت ملے۔
میئر کراچی کے مطابق لیاری میں پانی کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے ایک کروڑ گیلن پانی کی گنجائش والی لائن بچھائی گئی ہے۔ لیاری ایکسپریس وے کے ساتھ نئی پانی کی لائن بھی بچھائی گئی ہے، جس کی ٹیسٹنگ جاری ہے۔ انہوں نے پانی چوری کی روک تھام کے لیے اقدامات جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا۔
اسپینسر آئی اسپتال دوبارہ فعال
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کے ایم سی کے اسپینسر آئی اسپتال کو دوبارہ فعال کردیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اسپتال میں روزانہ تقریباً 300 مریض معائنے کے لیے آتے ہیں، جبکہ ہر ہفتے 60 سے زائد مریضوں کے موتیے کا علاج کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہریوں کو معیاری طبی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی اپنے منشور کے تحت صحت اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
یونیورسٹی روڈ اور دیگر ترقیاتی منصوبے
میئر کراچی نے یونیورسٹی روڈ کے ترقیاتی منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے سے شہریوں کی تقریباً 80 فیصد مشکلات کم ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق نیپا سے حسن اسکوائر تک کام جاری ہے، جسے نومبر تک مکمل کرنے کا ہدف ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی سرکلر ریلوے کئی برسوں سے بند ہے، اس لیے شہریوں کو متبادل سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے سڑکوں کی بہتری اور نئے راستوں کی تعمیر پر کام کیا جا رہا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ چکور نالے پر منی شاہراہ بھٹو کی طرز پر کام جاری ہے، جس سے پہلوان گوٹھ اور راشد منہاس روڈ کے اطراف رہنے والوں کو سہولت ملے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کے ایم سی محکمہ ثقافت کے تعاون سے تاریخی چوکنڈی قبرستان کے تحفظ اور تاریخی ورثے کو اجاگر کرنے کے لیے معیاری میوزیم قائم کرے گی۔
شہر میں ترقیاتی کام جاری رکھنے کا عزم
میئر کراچی نے کہا کہ شہر کے ساتوں اضلاع اور ٹاؤنز میں ترقیاتی کام جاری ہیں۔ ان کے مطابق دستیاب وسائل میں شہریوں کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور کراچی کی بہتری کے لیے منصوبوں پر کام جاری رہے گا۔
انہوں نے سیاسی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی اصل اہمیت شہریوں کے مسائل حل کرنے اور کام مکمل کرنے میں ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ گزشتہ دو ماہ سے ایک متعلقہ شخصیت سے 300 ارب روپے کے اخراجات کا حساب مانگ رہے ہیں۔
شہر میں امن و امان سے متعلق سوال پر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کسی شخص کی گرفتاری کے بارے میں متعلقہ پولیس حکام اور وزیر داخلہ جواب دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی ہونی چاہیے، تاہم سیاسی کارکنوں کی عزت و احترام کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔
ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے اپنے منشور میں پانی کے مسائل کے حل کو خصوصی اہمیت دی ہے۔ ان کے مطابق اسی وژن کے تحت کراچی کے ساتوں اضلاع میں ترقیاتی کام جاری ہیں اور سیاسی تنقید کے باوجود عوامی خدمت کا سلسلہ برقرار رکھا جائے گا۔
Hello, its fastidious article concerning media print, we all
be familiar with media is a great source of data.
Great post! We will be linking to this great article on our website.
Keep up the good writing.