امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پیٹرولیم لیوی ختم نہ کی گئی تو جماعت اسلامی نومبر کے وسط میں اسلام آباد کی جانب مارچ کرے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی اپنے اعلان کردہ مارچ سے دست بردار نہیں ہوئی۔
وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت پیٹرولیم لیوی کو مرحلہ وار ختم کرنے کی بات کر رہی ہے، جبکہ جماعت اسلامی اس کا فوری خاتمہ چاہتی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت پیٹرولیم لیوی سے ماہانہ 150 ارب روپے حاصل کر رہی ہے۔ ان کے مطابق لیوی ختم ہونے سے عوام کو ریلیف مل سکتا ہے۔
وزیراعظم نے مزید وقت مانگ لیا
حافظ نعیم الرحمان نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت کو مزید سات سے دس دن دینے کی درخواست کی ہے۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ عوام مہنگائی سے پریشان ہیں اور انہیں فوری ریلیف کی ضرورت ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ان کی جماعت نے حکومت کے سامنے اپنے مطالبات واضح کر دیے ہیں۔ انہوں نے پیٹرولیم لیوی پر تنقید کرتے ہوئے اسے بھتہ قرار دیا اور کہا کہ لیوی کے خاتمے تک مارچ کا فیصلہ برقرار رہے گا۔
حکومتی اور جماعت اسلامی کے وفود کی ملاقات
حافظ نعیم الرحمان وفد کے ہمراہ وزیراعظم ہاؤس پہنچے، جہاں شہباز شریف سے پیٹرولیم لیوی اور عوام کو ریلیف دینے کے مختلف طریقوں پر تبادلہ خیال ہوا۔
جماعت اسلامی کے وفد میں نائب امیر لیاقت بلوچ، ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید فراست شاہ اور امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا شامل تھے۔
حکومتی وفد میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، سینیٹر رانا ثناء اللہ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی بھی موجود تھے۔
ملاقات کے بعد حافظ نعیم نے کہا کہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے حکومت سے مذاکرات جاری رہیں گے، تاہم جماعت اسلامی پیٹرولیم لیوی کے خاتمے تک مارچ کے اعلان سے دست بردار نہیں ہوگی۔
جماعت اسلامی کا مؤقف
جماعت اسلامی کی تکنیکی کمیٹی پہلے ہی حکومت کو پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی ختم کرنے کی تجویز دے چکی ہے۔ جماعت اسلامی نے اسی مطالبے پر اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
وزیراعظم کی جانب سے رابطے اور ملاقات کی دعوت کے بعد مارچ مؤخر کیا گیا تھا۔ تاہم، حافظ نعیم الرحمان کے تازہ بیان کے مطابق اگر حکومت نے مطالبہ تسلیم نہ کیا تو نومبر کے وسط میں مارچ کیا جائے گا۔