کراچی میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے مبینہ طور پر ڈارک ویب سے منسلک ایک خطرناک آن لائن نیٹ ورک کے رابطے میں آنے والی 13 سالہ بچی کو بروقت تحفظ فراہم کیا ہے۔ حکام کے مطابق، بچی کو پہلے ایک بلی کو زہر دے کر مارنے اور پھر خود کو نقصان پہنچانے جیسے خطرناک ٹاسک دیے جا رہے تھے۔
حکام کے مطابق، متعلقہ ٹیم نے بروقت مداخلت کرکے بچی کو خود کو نقصان پہنچانے کے اگلے مرحلے سے پہلے تحفظ فراہم کیا۔ ایجنسی نے بچی کے والدین کو بھی صورت حال سے آگاہ کیا، جو مبینہ طور پر اپنی بیٹی کی ان آن لائن سرگرمیوں سے لاعلم تھے۔
مشکوک آن لائن اکاؤنٹس کی تحقیقات
این سی سی آئی اے حکام کے مطابق، بچی سے رابطہ کرنے والے آن لائن اکاؤنٹس کا سراغ لگایا جا رہا ہے تاکہ ان کے پیچھے موجود افراد یا گروہ کی شناخت کی جاسکے۔ تفتیش کار یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ بچی کو اس نیٹ ورک تک رسائی کیسے ملی اور اسے خطرناک سرگرمیوں کی طرف کس طرح راغب کیا گیا۔
حکام اس پہلو کی بھی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا پاکستان میں دیگر بچے بھی اس نوعیت کے آن لائن نیٹ ورک کے نشانے پر ہیں۔ تفتیشی ادارہ مشتبہ رابطوں کے طریقۂ کار اور نیٹ ورک کی سرگرمیوں کا جائزہ لے رہا ہے تاکہ ممکنہ متاثرین کی نشاندہی اور مزید نقصان کی روک تھام کی جاسکے۔
ڈارک ویب تک رسائی کیسے ہوئی؟
این سی سی آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز کے مطابق، معاملے کے مختلف پہلوؤں کی چھان بین جاری ہے۔ تحقیقات میں یہ معلوم کرنا بھی شامل ہے کہ بچی کی ڈارک ویب تک رسائی کیسے ہوئی اور اسے نقصان دہ سرگرمیوں کی جانب کس طرح راغب کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ متعلقہ نیٹ ورک کے خلاف مزید تفصیلی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ بچوں کے استحصال کے بعض واقعات اور ڈارک ویب سے ان کے ممکنہ روابط کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تاہم، حکام کے مطابق ان روابط کے بارے میں حتمی نتیجے پر پہنچنے کے لیے تحقیقات مکمل ہونا ضروری ہے۔
والدین کو بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھنے کی ہدایت
این سی سی آئی اے نے والدین پر زور دیا ہے کہ وہ بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کی مؤثر نگرانی کریں اور ان سے انٹرنیٹ کے استعمال کے بارے میں کھل کر بات کریں۔ کسی مشکوک رابطے یا غیر معمولی رویے کی صورت میں فوری توجہ دینے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق، بچوں کو نامعلوم افراد سے آن لائن رابطوں، خطرناک چیلنجز اور نقصان دہ سرگرمیوں پر اکسانے والے پیغامات کے بارے میں آگاہ کرنا ضروری ہے۔ اگر کوئی بچہ ایسی سرگرمی کا ذکر کرے تو اسے ڈانٹنے یا شرمندہ کرنے کے بجائے اس کی حفاظت کو ترجیح دینی چاہیے اور ضرورت پڑنے پر متعلقہ حکام سے رابطہ کرنا چاہیے۔
یہ واقعہ بچوں کی ڈیجیٹل حفاظت اور سائبر جرائم کی روک تھام کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ جاری تحقیقات سے یہ معلوم کرنے میں مدد مل سکتی ہے کہ بچی سے رابطہ کرنے والے افراد کون تھے، مبینہ نیٹ ورک کس طرح کام کرتا تھا اور آیا دیگر بچوں کو بھی اس سے خطرہ لاحق ہے۔