واشنگٹن (22 اپریل 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور مذاکرات کے حوالے سے کسی قسم کی جلدی یا سیاسی دباؤ موجود نہیں، اور نہ ہی اس معاملے کے حل کے لیے کوئی ٹائم فریم مقرر کیا گیا ہے۔
اداکارہ سوہائے علی ابڑو کی نجی زندگی پر افواہیں، علیحدگی کی خبریں زیر گردش
امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ مڈٹرم انتخابات کی وجہ سے جنگ یا تنازع کے جلد خاتمے سے متعلق تاثر درست نہیں ہے۔ ان کے مطابق امریکا ایران کے معاملے پر "بہتر ڈیل” چاہتا ہے جو امریکی عوام کے مفاد میں ہو۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی ایک سمجھدار شخصیت ہیں، اور توقع ہے کہ مذاکرات کا دوسرا دور جمعے تک شروع ہوسکتا ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق آئندہ 36 سے 72 گھنٹے اس عمل میں اہم ہیں۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے جواب کا انتظار کر رہا ہے اور اس وقت تک کوئی حتمی ڈیڈلائن مقرر نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق جنگ بندی کی صورتحال برقرار ہے تاہم "آپریشن اکنامک فیوری” جاری ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ امریکا کا مؤقف ہے کہ ایران کو افزودہ یورینیم امریکا کے حوالے کرنا چاہیے تاکہ اعتماد سازی کے عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔
