واشنگٹن (ویب ڈیسک) — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں، جبکہ ایران کے ساتھ بھی ایک ممکنہ امن معاہدے پر بات چیت جاری ہے۔
سندھ حکومت کا بڑا اقدام: معذور افراد کے لیے 800 ملین روپے کے معاون آلات جاری
صدر ٹرمپ کے مطابق ایران کے ساتھ اہم ملاقات آئندہ ویک اینڈ پر ہو سکتی ہے، اور اگر معاہدہ نہ ہوا تو صورتحال دوبارہ کشیدگی کی طرف جا سکتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران اب ان شرائط پر آمادہ ہے جنہیں پہلے مسترد کیا جا رہا تھا، جن میں جوہری پروگرام سے متعلق پابندیاں بھی شامل ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ نہ تو جوہری ہتھیار تیار کرے گا اور نہ ہی اس نوعیت کا مواد اپنے پاس رکھے گا، بلکہ متعلقہ جوہری مواد امریکہ کے حوالے کیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی عسکری صلاحیتیں پہلے ہی کمزور ہو چکی ہیں۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات مثبت سمت میں جاری ہیں اور پاکستان اس پورے عمل میں اہم اور مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعریف کرتے ہوئے انہیں “عظیم انسان” قرار دیا۔
ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم اور لبنانی صدر سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے اور دونوں فریقین جنگ بندی پر رضامند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ دنوں میں وہ اسرائیلی وزیراعظم اور لبنانی صدر سے ملاقات بھی کریں گے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر ایران سے معاہدہ طے پا جاتا ہے تو وہ پاکستان کا دورہ بھی کر سکتے ہیں۔
